LIVE
Loading Breaking News...

پاکستانی باکسر قدرت اللہ کامن ویلتھ گیمز کے بعد گلاسگو میں لاپتہ

News Image
برطانیہ میں منعقدہ کامن ویلتھ گیمز کے اختتام کے بعد پاکستانی باکسر قدرت اللہ گلاسگو میں اپنے ٹیم ہوٹل سے اچانک لاپتہ ہو گئے۔ اس واقعے نے قومی کھیلوں کے دستوں میں کھلاڑیوں کے فرار ہونے کے پرانے تنازعے کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔
کامن ویلتھ گیمز کے اختتام کے بعد کھیلوں کی دنیا سے ایک اور پریشان کن خبر سامنے آئی ہے جہاں پاکستان کے ابھرتے ہوئے باکسر قدرت اللہ گلاسگو میں اپنے ٹیم ہوٹل سے اچانک لاپتہ ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ واقعہ ٹیم کی وطن واپسی سے بالکل قبل پیش آیا، جس نے ایک بار پھر قومی کھیلوں کے منتظمین کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ قدرت اللہ کا اس طرح اچانک غائب ہونا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی ایسے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کرنے والے پاکستانی کھلاڑی مبینہ طور پر بہتر مستقبل یا دیگر وجوہات کی بناء پر ٹیم کو چھوڑ کر غائب ہو جاتے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، گیمز کے مقابلے ختم ہونے کے بعد تمام کھلاڑیوں اور آفیشلز کو وطن واپس روانہ ہونا تھا، تاہم گلاسگو کے ٹیم ہوٹل سے قدرت اللہ کی گمشدگی کی اطلاع ملتے ہی انتظامیہ کی دوڑیں لگ گئیں۔ پاکستانی وفد کے حکام نے فوری طور پر مقامی پولیس اور متعلقہ سکیورٹی اداروں سے رابطہ کر کے باکسر کی تلاش شروع کر دی ہے۔ اس صورتحال نے ایک طرف جہاں قومی اسپورٹس فیڈریشن کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے، وہیں دوسری طرف کھلاڑیوں کی سکیورٹی اور ان کی مانیٹرنگ کے طریقہ کار پر بھی شدید سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ ماضی میں بھی بین الاقوامی دوروں پر جانے والے کئی پاکستانی ایتھلیٹس اور باکسرز اسی طرح کے حالات میں ٹیموں کو چھوڑ کر فرار ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے بیرون ملک جانے والے وفود کے لیے ویزا کے حصول کے قوانین مزید سخت کر دیے گئے تھے۔ اس تازہ واقعے کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ متعلقہ اسپورٹس حکام اس معاملے کی سخت انکوائری کریں گے اور ذمہ داران کے خلاف لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ کھیلوں کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے ملک کا بین الاقوامی سطح پر نام خراب ہوتا ہے اور مستقبل میں پاکستانی ایتھلیٹس کے لیے بیرون ملک کھیلوں کے مقابلوں میں شرکت کے مواقع بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔