Education
اے اے یو اے اساتذہ یونین کی تنخواہوں میں تاخیر پر ہڑتال کی دھمکی
آدم کُنکلہ اکاکو کی اے اے یو اے یونیورسٹی کی اساتذہ یونین نے تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر پر نئی ہڑتال کی دھمکی دی ہے۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ فنڈز تاحال ملازمین کے اکائونٹس میں منتقل نہیں کیے گئے۔
آدم کُنکلہ اکاکو کی عدیبی آکونسن یونیورسٹی (AAUA) کی برانچ کے اساتذہ نے تنخواہوں کے نفاذ اور نئے مالیاتی فوائد کی ادائیگی میں ہونے والی تاخیر پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایک بار پھر ہڑتال پر جانے کی دھمکی دی ہے۔ اساتذہ یونین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اور متعلقہ حکام کی جانب سے بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود مسائل کا حل نہیں نکالا جا رہا ہے جس کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیاں دوبارہ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ریاست اونڈو کی جانب سے جاری کردہ ایک ارب ایک سو ملین نائرا کا انٹروینشن فنڈ تاحال اساتذہ اور دیگر ملازمین کے بینک اکائونٹس میں ظاہر نہیں ہو سکا ہے۔ اس فنڈ کا مقصد ملازمین کو مالی ریلیف دینا اور زیر التوا واجبات کی ادائیگی کرنا تھا، لیکن فنڈز کی بروقت تقسیم نہ ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی کے ملازمین شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ اساتذہ نے مطالبہ کیا ہے کہ فنڈز کی منتقلی کے عمل کو فوری طور پر شفاف بنایا جائے۔
اساتذہ تنظیم کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ طلباء کے تعلیمی نقصان سے بچنے کے لیے بات چیت کا راستہ اپنانا چاہتے ہیں لیکن اگر حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ نے فوری طور پر کوئی عملی قدم نہ اٹھایا تو وہ سخت احتجاجی اقدام اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔ ہڑتال کی اس نئی دھمکی کے بعد یونیورسٹی کی فضا کشیدہ ہو چکی ہے اور طلبا میں بھی بے یقینی کی کیفیت پائی جا رہی ہے۔
یونیورسٹی کے ترجمان یا متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ صورتحال مزید خراب ہونے سے پہلے حکومت اس معاملے میں مداخلت کرے گی۔ اساتذہ نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ اگر مقررہ وقت تک ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو وہ کسی بھی وقت تدریسی بائیکاٹ کا اعلان کر سکتے ہیں۔