LIVE
Loading Breaking News...

ڈیٹا ڈاگ کی آمدنی میں 30 فیصد اضافہ، مصنوعی ذہانت کا اہم کردار

News Image
معروف سرمایہ کاری ادارے جینس ہینڈرسن انویسٹرز کی رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی کمپنی ڈیٹا ڈاگ نے مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی مانگ کے نتیجے میں اپنی آمدنی میں تیس فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ اس شاندار کارکردگی نے فنڈ کی مجموعی سرمایہ کاری کو مثبت سمت فراہم کی ہے۔
جینس ہینڈرسن انویسٹرز نامی معروف سرمایہ کاری ادارے نے حال ہی میں اپنی فورٹی فنڈ کی دوسری سہ ماہی کی سرمایہ کاری رپورٹ جاری کی ہے، جس میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق، معروف کلاؤڈ مانیٹرنگ اور سیکیورٹی پلیٹ فارم ڈیٹا ڈاگ (DDOG) نے اپنی آمدنی میں تیس فیصد سے زائد کا شاندار اضافہ درج کیا ہے۔ یہ ترقی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مانگ میں بے پناہ تیزی آ رہی ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ڈیٹا ڈاگ نے جدید کلاؤڈ انفراسٹرکچر اور مصنوعی ذہانت کے ٹولز کو ضم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، جس کی وجہ سے کاروباری اداروں کی جانب سے اس کی خدمات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی نگرانی اور ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے کمپنیوں کو جن جدید حل کی ضرورت ہوتی ہے، ڈیٹا ڈاگ نے وہ فراہم کیے ہیں۔ اس اہم کاروباری حکمت عملی نے کمپنی کی آمدنی کو ایک نئی بلندی پر پہنچا دیا ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی مزید مستحکم ہوا ہے۔ جینس ہینڈرسن فورٹی فنڈ نے اس سہ ماہی کے دوران شاندار مالیاتی نتائج کا مظاہرہ کرتے ہوئے 19 فیصد تک کی واپسی (रिटर्न) حاصل کی ہے، جس میں اس طرح کے تکنیکی اثاثوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مصنوعی ذہانت پر مبنی خدمات کی مانگ میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس سے ڈیٹا ڈاگ جیسی کمپنیوں کو طویل مدت تک فائدہ پہنچتا رہے گا۔ فنڈ کے منتظمین نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں اس مثبت رجحان کو مستقبل کی معیشت کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔