Technology
بٹ کوائن کولڈ والٹ پر ہیکرز کا حملہ اور کروڑوں ڈالر کی چوری
ہیکرز نے بٹ کوائن کے محفوظ ترین سمجھے جانے والے 'کولڈ والٹ' میں سافٹ ویئر کی خامی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کروڑوں ڈالر چرالیے ہیں۔ کینیڈا سے تعلق رکھنے والی کمپنی کے اس والٹ کو ہیک کیے جانے کا یہ واقعہ عالمی سطح پر کرپٹو کرنسی کے سکیورٹی خدشات کو بڑھا رہا ہے۔
ڈیجیٹل کرنسی کی دنیا میں ایک انتہائی حیران کن اور تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ہیکرز نے بٹ کوائن کے محفوظ ترین ہiding پلیس مانے جانے والے کولڈ والٹ کو نشانہ بنایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہیکرز نے اس برانڈ کے سافٹ ویئر میں ایک اہم خامی کا پتہ لگایا اور اس کی مدد سے جاری حملوں میں کروڑوں ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی اپنے قبضے میں لے لی ہے۔ ماہرین اسے کرپٹو سکیورٹی کی تاریخ کے بڑے دھچکوں میں سے ایک قرار دے رہے ہیں۔
یہ واقعہ گزشتہ ہفتے کے آخر میں پیش آیا جب کینیڈا سے تعلق رکھنے والی متعلقہ والٹ بنانے والی کمپنی کے سسٹمز میں یہ نقائص سامنے آئے۔ کولڈ والٹ کو عام طور پر انٹرنیٹ سے منسلک نہ ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ محفوظ تصور کیا جاتا ہے اور کرپٹو سرمایہ کار اپنی ڈیجیٹل دولت کو ہیکرز کی پہنچ سے دور رکھنے کے لیے انہی آلات کا استعمال کرتے ہیں۔ تاہم، اس تازہ حملے نے اس روایتی یقین کو ہلا کر رکھ دیا ہے کہ آف لائن اسٹوریج سو فیصد محفوظ ہے۔
حملے کا شکار ہونے والے صارفین اور متعلقہ اداروں کی طرف سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ سافٹ ویئر میں یہ کمزوری کیسے پیدا ہوئی اور اسے کس طرح ایکسپلائٹ کیا گیا۔ ماہرینِ نفسیات اور ڈیجیٹل سکیورٹی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سرمایہ کاروں کو فوری طور پر اپنے سافٹ ویئر اپ ڈیٹس چیک کرنے چاہئیں اور مزید نقصان سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔
اس حملے کے بعد عالمی سطح پر کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی ہے اور ریگولیٹرز کی جانب سے بھی ڈیجیٹل والٹ ساز کمپنیوں کے معیار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سائبر حملے نہ صرف مالی نقصان کا سبب بنتے ہیں بلکہ ڈیجیٹل اثاثوں پر عام لوگوں کے اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ کمپنی کی جانب سے معاملے کی چھان بین جاری ہے اور جلد ہی متاثرہ صارفین کے لیے تفصیلی ہدایات جاری کیے جانے کی توقع ہے۔