LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں 112 شہداء کا اجتماعی جنازہ، ملبے سے لاشیں برآمد

News Image
غزہ میں ایک المناک اجتماعی جنازے کے دوران 112 فلسطینیوں کو سپرد خاک کیا گیا جن کی لاشیں ملبے سے نکالی گئی تھیں۔ اس ہولناک واقعے میں شہید ہونے والوں میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی بھی شامل ہے۔
غزہ کی پٹی میں ایک انتہائی دلخراش اور غم ناک مناظر کے تحت اجتماعی جنازے کا انعقاد کیا گیا، جہاں 2023 کے دوران ہونے والے ایک شدید اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہونے والے 112 فلسطینیوں کو اجتماعی طور پر سپرد خاک کر دیا گیا۔ یہ تمام افراد ایک ہی خاندان اور قریبی رشتہ داروں پر مشتمل تھے جن کی لاشیں طویل عرصے بعد تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے نکالی جا سکیں۔ اس سانحے نے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ جاں بحق ہونے والوں میں کم از کم 40 معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ مقامی رہائشیوں اور امدادی کارکنوں نے انتہائی مشکل حالات میں ان شہداء کی تدفین کے فرائض انجام دیے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور تنظیموں کے مطابق، اتنی بڑی تعداد میں لاشوں کا ایک ساتھ ملبہ سے برآمد ہونا اور پھر ان کا اجتماعی جنازہ ادا کرنا غزہ کی موجودہ ابتر انسانی صورتحال کی غمازی کرتا ہے۔ کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (سی اے آئی آر) سمیت مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے انسانیت سوز قرار دیا ہے اور فوری طور پر جنگ بندی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ معصوم بچوں اور شہریوں کی اتنی بڑی تعداد میں شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ عام شہریوں کو جنگی کارروائیوں میں کس بے دردی سے نشانہ بنایا گیا۔ غزہ کے محصور عوام پہلے ہی خوراک، ادویات اور پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کا شکار ہیں، اور اب اس طرح کے دل دہلا دینے والے انکشافات نے ان کے غم میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ تباہ شدہ گھروں اور گلیوں کے درمیان ان شہداء کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی جہاں ہر آنکھ اشک بار تھی۔ عالمی برادری سے ایک بار پھر مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے تاکہ غزہ کے مظلوم عوام کو مزید جانی و مالی نقصان سے بچایا جا سکے اور جنگ کے اس لامتناہی سلسلے کو روکا جا سکے۔