World
اسپین کے سیوتا میں کم عمر مہاجرین کی مشکلات اور حالیہ صورتحال
اسپین کے خود مختار شہر سیوتا میں اب بھی ایک ہزار سے زائد کم عمر مہاجرین بے یارو مددگار موجود ہیں۔ ہزاروں افراد کی سرحد پار کرنے کی بڑی لہر کے بعد زیادہ تر افراد واپس مراکش جا چکے ہیں مگر بچوں کی کسمپرسی برقرار ہے۔
اسپین کے خود مختار شمالی افریقی علاقے سیوتا میں صورتحال اب بھی کشیدہ اور پریشان کن بنی ہوئی ہے جہاں ایک ہزار سے زائد کم عمر مہاجرین اجنبی دیس میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ حالیہ مہینوں کے دوران اس علاقے میں اس وقت غیر معمولی ہنگامہ برپا ہوا جب دباؤ کے تحت ہزاروں کی تعداد میں تارکین وطن نے اس ہسپانوی علاقے کی طرف رخ کیا تھا۔ اس بڑے پیمانے پر سرحدی ریل پییل اور ہنگامی صورتحال کے بعد بین الاقوامی سطح پر بھی اس بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔
حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق، اس بڑے بحران کے عروج پر لگ بھگ بہتر ہزار سے زیادہ افراد نے سیوتا کی سرحد عبور کی تھی جن میں سے اکثریت بعد میں واپس مراکش لوٹ گئی۔ یورپی یونین اور ہسپانوی حکام نے اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا تھا، تاہم اس تمام بحران کے دوران سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو کم عمر تارکین وطن اور بچوں کی حالتِ زار ہے۔ ہزاروں بالغ افراد کی واپسی کے باوجود اب بھی تقریباً ایک ہزار کے قریب ایسے نابالغ بچے اور نوجوان اس علاقے میں موجود ہیں جن کے پاس سر چھپانے کا کوئی مناسب ٹھکانہ اور روشن مستقبل کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور فلاحی اداروں نے ان بچوں کے مستقبل کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے جو اب بھی اس طوفانی لہر کے بعد تنہا رہ گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کم عمر تارکین وطن کی یہ تعداد انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے کیونکہ ان بچوں کی دیکھ بھال، قانونی تحفظ اور ان کے بہتر مستقبل کے لیے فوری اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ اسپین کی حکومت اور مقامی انتظامیہ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ ان بچوں کے مسائل کے حل کے لیے موثر حکمت عملی تیار کریں تاکہ اس انسانی بحران کو مستقل بنیادوں پر رفع کیا جا سکے۔