LIVE
Loading Breaking News...

غزہ امن معاہدہ: کیا حماس ہتھیار ڈالنے پر رضامند ہو گئی ہے؟

News Image
امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق حماس نے غزہ میں ایک وسیع امن منصوبے کے تحت غیر مسلح ہونے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حماس کی حقیقی غیر مسلح کاری تک غزہ سے افواج کا انخلا ممکن نہیں۔
بین الاقوامی میڈیا بالخصوص وال اسٹریٹ جنرل کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، غزہ میں امن کے قیام کے لیے پیش کیے جانے والے ایک نئے وسیع منصوبے کے تحت حماس کے غیر مسلح ہونے کے امکانات پر بات چیت جاری ہے۔ امریکی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حماس نے ایک وسیع تر امن منصوبے کے اصولوں کو تسلیم کر لیا ہے جس کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کا مستقل خاتمہ کرنا ہے۔ اس پورے معاملے پر امریکی صدر کے نامزد کردہ امن بورڈ نے اسرائیل کو یقین دہانی کرائی ہے کہ تل ابیب کے تمام تحفظات کو مدنظر رکھا جائے گا۔ اسرائیلی حکومت اور فوج اس بات پر اڑے ہوئے ہیں کہ جب تک حماس کو مکمل اور حقیقی طور پر غیر مسلح نہیں کیا جاتا، اس وقت تک غزہ کی پٹی سے اسرائیلی افواج کا انخلا عمل میں نہیں لایا جائے گا۔ اسرائیلی عہدیداروں کا موقف ہے کہ سکیورٹی کی ایسی ضمانتیں درکار ہیں جو مستقبل میں کسی بھی خطرے کا مؤثر سدباب کر سکیں۔ دوسری جانب، اس امن منصوبے پر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن ہاہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ اور واضح ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ویک اینڈ کے دوران بھی غزہ میں شدید اور ہلاکت خیز فضائی حملے جاری رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سفارتی سطح پر جاری ان کوششوں کے باوجود زمینی حقائق تاحال انتہائی پیچیدہ ہیں اور فریقین کے درمیان پائیدار امن کے قیام کے لیے ابھی کئی کٹھن مرحلے طے کرنا باقی ہیں۔