World
یروشلم کے مسلم مقدسات کو اسرائیلی خطرہ: اردن کا انتباہ اور عالمی ردعمل
اردن نے خبردار کیا ہے کہ یروشلم کا اہم ترین اسلامی مقام اسرائیلی قبضے کے شدید اور فوری خطرے کی زد میں ہے۔ پاکستان اور ترکیہ سمیت دیگر اسلامی ممالک نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔
عمان: اردن نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ یروشلم میں واقع مسلمانوں کا اہم ترین مذہبی مقام یعنی مسجد اقصیٰ اور اس سے جڑے مقدس مقامات کو اسرائیلی قبضے کے 'قریب ترین' اور شدید خطرات کا سامنا ہے۔ اردن کی جانب سے یہ انتہائی اہم اور سنجیدہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور مسلم دنیا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اردنی حکام کے مطابق، قبلہ اول کی حیثیت کو تبدیل کرنے اور وہاں اسرائیلی اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششیں تیز ہو چکی ہیں جنہیں فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے۔ اس سنگین صورتحال کے پیش نظر مسلم دنیا کے رہنماؤں نے فوری رابطے شروع کر دیے ہیں تاکہ اس خطرے کا سدباب کیا جا سکے۔ دوسری جانب، پاکستان اور ترکیہ نے بھی اس پیشرفت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے حقوق اور ان کے منصفانہ مؤقف کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک نے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ دریں اثنا، پاکستان، مصر اور سعودی عرب نے مشرقی یروشلم کی صورتحال پر غور کرنے کے لیے اردن کی جانب سے ایک اہم عرب اسلامی اجلاس بلانے کی تجویز کا خیرمقدم کیا ہے۔ اس مجوزہ وزارتی اجلاس میں ترکیہ کے وزیر خارج سمیت دیگر اہم عالمی رہنما شرکت کریں گے تاکہ قبلہ اول کے تحفظ اور خطے میں امن کے قیام کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کی جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اردن کی طرف سے یہ انتباہ خطے میں ایک نئے بڑے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے، اور اگر عالمی برادری نے اس معاملے پر فوری نوٹس نہ لیا تو صورتحال مزید قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔