LIVE
Loading Breaking News...

یورپی یونین کی جانب سے سبتہ میں ہسپانوی حکومت کے اقدامات کی تعریف

News Image
یورپی یونین نے ہسپانوی شہر سبتہ میں غیر قانونی تارکین وطن کے بحران سے نمٹنے کے لیے اسپین کے فوری اقدامات کو سراہا ہے۔ ہسپانوی حکام کے مطابق بحران کے دوران آنے والے لگ بھگ ستر ہزار افراد کو واپس مراکش منتقل کر دیا گیا ہے۔
یورپی یونین نے ہسپانوی انکلیو سبتہ میں رونما ہونے والے حالیہ تارکین وطن کے بحران پر قابو پانے کے لیے اسپین کے فوری اور بروقت ردعمل کی پرزور تحسین کی ہے۔ یورپی یونین کے اعلی حکام کا کہنا ہے کہ مشکل ترین حالات میں اسپین کی انتظامیہ نے جس پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابل ستائش ہے۔ اس بحران نے ایک بار پھر یورپی سرحدوں کی سیکیورٹی اور مائگریشن مینجمنٹ کے امور کو دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ ہسپانوی حکومت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ ہفتے غیر قانونی طور پر سبتہ میں داخل ہونے والے تقریباً بہتر ہزار افراد میں سے لگ بھگ ستر ہزار افراد کو کامیابی کے ساتھ ان کے آبائی ملک مراکش واپس بھیج دیا گیا ہے۔ ہسپانوی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام کارروائی دو طرفہ تعاون اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہ کر عمل میں لائی گئی ہے تاکہ سرحدی نظم و ضبط کو برقرار رکھا جا سکے اور انسانی ہمدردی کے تقاضے بھی پورے کیے جا سکیں۔ تارکین وطن کی اس اچانک آمد نے مقامی انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز کے لیے شدید نوعیت کے چیلنجز پیدا کر دیے تھے، تاہم فوری اقدامات کی بدولت صورتحال کو مزید بگڑنے سے روک لیا گیا۔ یورپی یونین اور اسپین کے درمیان اس تعاون کو غیر قانونی ہجرت کے خلاف جنگ میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے یورپی ممالک اور افریقی ممالک کے مابین قریبی تعاون ناگزیر ہے تاکہ پائیدار حل تلاش کیے جا سکیں۔