LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں اسرائیل کے صبرا حملہ کے شہداء کی اجتماعی تدفین

News Image
غزہ میں ہزاروں افراد نے تباہ شدہ مکانات کے ملبے سے نکالی جانے والی 112 لاشوں کی اجتماعی تدفین میں شرکت کی۔ یہ تمام افراد اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے دوران شہید ہوئے تھے جن کی تدفین اب ممکن ہو سکی ہے۔
غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں شہید ہونے والے 112 افراد کی باقیات کو ملبے سے نکالنے کے بعد ان کی اجتماعی تدفین کر دی گئی ہے۔ اس المناک موقع پر ہزاروں سوگوار شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور شہداء کو آخری روایات کے مطابق سپردِ خاک کیا۔ یہ تمام افراد گزشتہ ادوار میں ہونے والے شدید حملوں کے دوران شہید ہوئے تھے اور طویل عرصے تک ان کے احباب کو ان کی لاشیں تک نصیب نہیں ہو سکی تھیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ لاشیں اور باقیات ان گھروں اور عمارتوں کے ملبے سے تلاشی کے بعد برآمد کی گئیں جو اسرائیل کی مسلسل بمباری سے مکمل طور پر مٹی کا ڈھیر بن چکے تھے۔ ریسکیو ٹیموں اور رضاکاروں نے شدید مشکلات کے باوجود انتہائی کسمپرسی کی حالت میں اس ملبے کو ہٹایا اور شہداء کی باقیات کو اکٹھا کیا۔ غزہ کے محصور اور تباہ حال علاقوں میں اس طرح کی اجتماعی تدفین اب ایک روزمرہ کا تلخ حقیقت بن چکی ہے، جہاں بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ نمازِ جنازہ کے دوران فضا سوگوار تھی اور شرکاء کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ مقامی افراد کا کہنا تھا کہ اسرائیلی جارحیت نے غزہ میں انسانیت کا قتلِ عام کیا ہے اور کسی بھی خاندان کو محفوظ پناہ گاہ میسر نہیں ہے۔ شہداء کے لواحقین اپنے پیاروں کی یاد میں نڈھال دکھائی دیے، جبکہ اس اجتماعی جنازے نے ایک بار پھر دنیا کو خطے کی ابتر انسانی صورتحال کا منہ بولتا ثبوت فراہم کیا ہے۔ بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے غزہ کی اس بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جنگ نے نہ صرف انفراسٹرکچر کو ملبے کا ڈھیر بنایا ہے بلکہ ہزاروں خاندانوں کو ان کے پیاروں کی آخری رسومات سے بھی محروم کر دیا ہے۔ اجتماعی تدفین کے اس واقعے نے دنیا بھر کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی ہے تاکہ فوری جنگ بندی کے ذریعے اس انسانی المیے کو روکا جا سکے۔