World
آبِ ہرمز کی بندش اور تناؤ کے خاتمے کے لیے قطر کی ثالثی کی کوششیں
قطر نے تصدیق کی ہے کہ خطے میں مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے آبِ ہرمز کو کھولنے سے متعلق غیر براہ راست مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس ضمن میں متعلقہ فریقین سفارتی ذرائع سے رابطے میں ہیں تاکہ معاملات کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔
دوحہ: قطر نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ خطے میں کسی بھی قسم کی مزید کشیدگی سے بچنے اور امور کو معمول پر لانے کے لیے غیر براہ راست مذاکرات کا عمل مسلسل جاری ہے۔ قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد الانصاری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ بین الاقوامی تجارت کے اس اہم ترین گزرگاہ کو مکمل طور پر بحال اور رواں دواں رکھنے کے لیے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ رابطے کیے جا رہے ہیں۔
ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ قطری حکومت خطے کے امن و استحکام کے لیے پرعزم ہے اور تمام تر تنازعات کا حل بات چیت اور سفارتی ذرائع سے تلاش کرنے کی حامی ہے۔ آبِ ہرمز دنیا بھر میں توانائی کی فراہمی کا ایک انتہائی حساس اور کلیدی راستہ ہے، جہاں سے تیل اور گیس کے بڑے جہاز گزرتے ہیں۔ اس آبی گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائن پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق، قطر کی جانب سے یہ غیر براہ راست مذاکرات ایک ایسے وقت میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں جب خطے میں تناؤ کی فضا برقرار ہے۔ قطری قیادت تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کر رہی ہے تاکہ کسی بڑے بحران جنم نہ لے۔ سفارتی حلقے ان کوششوں کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ان مذاکرات کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔