Business
ٹرانسپورٹرز کی 8 اگست سے ملک گیر ہڑتال، ڈیزل قیمتیں اور ٹیکس کم کرنے کا مطالبہ
آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز الائنس نے مطالبات پورے نہ ہونے پر 8 اگست سے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ اور بھاری ٹیکسوں نے ان کا کاروبار تباہ کر دیا ہے۔
اسلام آباد میں آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز الائنس کے رہنماؤں نے نیشنل پریس کلب میں ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے 8 اگست سے ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومتی پالیسیوں اور ڈیزل کی قیمتوں میں بار بار اضافے کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کا شعبہ شدید ترین مالی بحران کا شکار ہو چکا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد اویس چوہدری ایڈوکیٹ، ملک شفیع اللہ اعوان اور ملک نثار نے کہا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو ملک بھر میں اشیائے ضروریہ کی سپلائی معطل ہو سکتی ہے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
ٹرانسپورٹرز کا بنیادی مطالبہ ہے کہ ڈیزل پر عائد ٹیکسوں میں کمی کی جائے اور ایندھن کی قیمتوں کو یکم جولائی 2024 کی سطح پر واپس لایا جائے۔ اس کے علاوہ کارگو ٹرانسپورٹرز پر ودہولڈنگ ٹیکس جو کہ سات فیصد تک پہنچ چکا ہے، اسے کم کر کے دو فیصد کیا جائے، کیونکہ آئل ٹینکرز کے آپریٹرز پہلے ہی صرف دو فیصد ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ الائنس نے فنانس ایکٹ کے اس متنازعہ شق کو بھی یکسر مسترد کر دیا ہے جس کے تحت گاڑی میں غیر ملکی یا نان ڈیوٹی پیڈ سامان کی موجودگی پر پوری گاڑی ضبط کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اس ظالمانہ قانون کی فوری واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے پرانے نظام کو بحال کرنے پر زور دیا جس کے تحت صرف جرمانہ عائد کیا جاتا تھا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ملک بھر میں ایکسل لوڈ کے قوانین پر یکساں عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اور اوورلوڈنگ کی روک تھام فیکٹریوں، گوداموں اور لوڈنگ پوائنٹس پر ہی کی جائے نہ کہ سڑکوں پر چیکنگ کے نام پر وصولیاں کی جائیں۔ اس کے علاوہ ہیوی ٹرانسپورٹ کے لیے ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کے طریقہ کار کو آسان بنایا جائے، ٹول ٹیکس میں کمی کی جائے اور ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی تبدیلیوں کو ختم کر کے ماہانہ یا پندرہ روزہ بنیادوں پر قیمتیں مقرر کی جائیں تاکہ ٹرانسپورٹرز کو کاروبار کرنے میں آسانی ہو۔
رہنماؤں نے واضح کیا کہ انہوں نے بارہا حکومت سے خطوط، ملاقاتوں اور میڈیا کے ذریعے رابطے کی کوشش کی لیکن کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر مذاکرات کا آغاز نہ کیا تو کارگو ٹرانسپورٹرز، کنٹینرز اور آئل ٹینکرز سمیت تمام گاڑیاں سڑکوں سے ہٹا لی جائیں گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ہڑتال مکمل طور پر پرامن ہوگی اور ٹرانسپورٹرز سڑکیں بند کرنے کے بجائے اپنی گاڑیاں پارک کریں گے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ہڑتال طویل ہونے سے درآمدات، برآمدات اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔