World
سعودی عرب اقامہ قوانین میں نرمی - غیر ملکی کارکنوں کے لیے بڑی خبر
سعودی حکومت نے مملکت میں مقیم غیر ملکی ورکرز کے لیے اقامہ کے ضوابط کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ اس نئے اقدام کا مقصد روزگار کے ماحول کو بہتر بنانا اور قانونی عمل کو سہل بنانا ہے۔
سعودی عرب کی حکومت نے مملکت میں مقیم اور کام کرنے والے غیر ملکی کارکنوں کے لیے اقامہ (رہائشی پرمٹ) کے قوانین میں اہم اور تاریخی نرمی کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد لیبر مارکیٹ کو مزید لچکدار بنانا، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا اور تارکین وطن کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔ نئی ترامیم کے تحت اب اقامہ کی تجدید اور دیگر متعلقہ امور کے لیے طویل اور پیچیدہ مراحل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، جس سے کارکنوں اور آجرین دونوں کو بڑی راحت ملے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں، جن کے تحت مملکت میں ایک پرکشش اور مستحکم معاشی ماحول تشکیل دیا جا رہا ہے۔ ماضی میں غیر ملکی ورکرز کو اقامہ سے جڑے قوانین میں سختی کی وجہ سے بعض اوقات مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، تاہم اب ڈیجیٹل سسٹمز کے ذریعے ان تمام عمل کو شفاف اور تیز رفتار بنا دیا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قدم سے سعودی عرب میں کام کرنے والے ہنر مند اور غیراکیڈمک کارکنوں کے حقوق کا تحفظ بھی بہتر طریقے سے ہو سکے گا اور مارکیٹ میں مسابقت کا رجحان بڑھے گا۔ سعودی وزارتِ افرادی قوت اور متعلقہ اداروں نے واضح کیا ہے کہ نئے قوانین کا نفاذ مرحلہ وار طریقے سے کیا جائے گا تاکہ کسی بھی قسم کی انتظامی ابتری سے بچا جا سکے۔ اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کاروباری حلقوں اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن نے سعودی حکومت کی اس پالیسی کو سراہا ہے اور اسے تارکین وطن کے مفاد میں ایک بہترین قدم قرار دیا ہے۔