World
یورپی یونین کی اسپین کے تارکین وطن کے منصوبے پر تنقید
یورپی یونین کے اعلیٰ حکام نے اسپین کے متنازع تارکین وطن کے منصوبے پر سخت تنقید کی ہے جو سیوطہ کے مقام پر پیدا ہونے والے حالیہ تارکین وطن کے بحران کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس بحران کے دوران ہزاروں افراد نے ہسپانوی علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی جس سے خطے میں شدید سیاسی ہلچل مچ گئی ہے۔
برسلز (نیکسٹورا نیوز اردو) یورپی یونین کے اعلیٰ حکام نے اسپین کے تارکین وطن سے متعلق متنازع منصوبے پر کڑی تنقید کی ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سیوطہ کے مقام پر تارکین وطن کا ایک بڑا بحران پیدا ہوا تھا اور یورپی رہنماؤں نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا تھا۔ اس بحران کے دوران ہزاروں کی تعداد میں تارکین وطن نے ہسپانویterritory میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کی تھی، جس کے بعد یورپی یونین کے اندر سرحدی انتظام اور سکیورٹی کے معاملات پر شدید بحث شروع ہو گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، یورپی کمیشن نے ابتدائی طور پر اسپین کے اس بحران پر فوری ردعمل کو سراہا تھا، تاہم اسپین کی جانب سے پیش کیے جانے والے طویل المدتی تارکین وطن کے منصوبے پر اب اتحادی ممالک اور یورپی یونین کے نمائندوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سیوطہ کے مقامی رہنماؤں نے بھی مراکش پر الزام عائد کیا ہے کہ اس mass border crossing کے پیچھے منظم سازش تھی، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔ اس صورتحال نے شینگن زون کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں، اور اٹلی سمیت چند دیگر یورپی ممالک نے بھی فوری حفاظتی اقدامات کے تحت اسپین کے ساتھ فری موومنٹ کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔
اسپین کی حکومت کو اس بحران پر قابو پانے کے لیے اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر سخت دباؤ کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپی یونین اور اسپین کے درمیان تارکین وطن کی پالیسیوں پر بڑھتا ہوا اختلاف مستقبل میں بارڈر کنٹرول کے قوانین کو مزید سخت کر سکتا ہے۔ تارکین وطن کی اکثریت اگرچہ واپس مراکش چلی گئی ہے، لیکن اس واقعے نے پورے خطے میں سیاسی عدم استحکام اور سکیورٹی خدات کو ہوا دی ہے، جس پر یورپی یونین مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔