LIVE
Loading Breaking News...

امریکی مینوفیکچرنگ سرگرمی چار سال کی بلند ترین سطح پر

News Image
امریکہ میں مینوفیکچرنگ سرگرمی جولائی 2026 میں ساڑھے چار سال کی بلند ترین سطح 55.6 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔ اس مضبوط اقتصادی اضافے کے ساتھ ہی ان پٹ قیمتوں اور مہنگائی میں اضافے نے فیڈرل ریزرو پر نئے دباؤ کا آغاز کر دیا ہے۔
امریکی مینوفیکچرنگ سیکٹر نے حیرت انگیز کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جولائی 2026 کے دوران پچھلے ساڑھے چار سال کی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، مینوفیکچرنگ پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس (PMI) میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے اور یہ 55.6 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ ماہرین اقتصادیات اس پیشرفت کو امریکی صنعتی شعبے کے لیے ایک انتہائی اہم اور مضبوط اشارہ قرار دے رہے ہیں، جو اس بات کا غماز ہے کہ فیکٹریوں میں پیداواری سرگرمیاں تیزی سے بحال اور فروغ پا رہی ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ فار سپلائی مینجمنٹ (ISM) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق امریکی فیکٹری سرگرمی میں یہ توسیع 2022 کے بعد سے اب تک کی سب سے طاقتور رفتار سے ہو رہی ہے۔ تاہم، اس معاشی وسعت اور پیداواری سرگرمیوں میں تیزی کے ساتھ ساتھ کچھ گہرے مالیاتی خدشات بھی سر اٹھانے لگے ہیں۔ رپورٹس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مینوفیکچرنگ کے عمل میں استعمال ہونے والے خام مال اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں یعنی ان پٹ پرائسز تاحال بلند سطح پر برقرار ہیں۔ صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں یہ مستقل دباؤ اور افراط زر کے خدشات اتنے شدید ہیں کہ بعض کاروباری حلقے انہیں وبائی امراض کے دور کے حالات سے بھی زیادہ پیچیدہ قرار دے رہے ہیں۔ اس صورتحال نے کارگو اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بھی متاثر کیا ہے، جہاں کیریئرز اس تیزی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مارکیٹ کے حوالے سے زیادہ پُرامید اور پرجوش ہوتے جا رہے ہیں۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے کی اس غیر متوقع مضبوطی نے مرکزی بینک یعنی فیڈرل ریزرو (Fed) کی پالیسی ساز کمیٹی کے لیے مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ ایک طرف تو معاشی ترقی اور فیکٹریوں میں بلند پیداوار خوش آئند ہے، تو دوسری طرف خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی کو قابو میں رکھنے کی کوششوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ اقتصادی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ان پٹ قیمتوں میں یہ اضافہ جاری رہا تو فیڈرل ریزرو پر شرح سود کے حوالے سے سخت فیصلے کرنے کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ کاروباری برادری اور سرمایہ کار اب اس بات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ صنعتی تیزی طویل عرصے تک برقرار رہ پائے گی یا پھر مہنگائی کے بڑھتے ہوئے بادل اس معاشی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنیں گے۔