World
سینیٹ رپورٹ: بڑے بینکوں پر جیفری ایپسٹین کی سرگرمیوں سے نظریں چرانے کا الزام
سینیٹ کی ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بڑے بینکوں نے جیفری ایپسٹین کے معاملات میں مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی کرنے کی قانونی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ رپورٹ کے بعد اس معاملے کی مزید تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔
امریکی سینیٹ کے ڈیموکریٹک اراکین کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی تحقیقاتی رپورٹ میں سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق ملک کے بڑے مالیاتی اداروں اور بینکوں نے مبینہ طور پر مجرم جیفری ایپسٹین کے مالی معاملات میں مشکوک سرگرمیوں کی طرف سے جان بوجھ کر نظریں چرائیں۔ یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مالیاتی اداروں کے اندرونی ضابطوں اور ان کی جانب سے قانون پر عمل درآمد کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
رپورٹ میں واضح طور پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان نامور بینکوں نے قانونی تقاضوں کو پورا کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا۔ بینکوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی غیر معمولی یا مشکوک مالی لین دین کو فوری طور پر متعلقہ حکام کو رپورٹ کریں تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کی جا سکے، تاہم اس معاملے میں مبینہ طور پر ان ضوابط کو نظر انداز کیا گیا جو کہ انتہائی تشویشناک بات ہے۔
مذکورہ رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد سیاسی اور مالیاتی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور مختلف رہنماؤں کی جانب سے اس پورے معاملے کی ایک آزادانہ اور جامع تحقیقات کا پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر بینک اپنے قانونی فرائض بروقت انجام دیتے تو کئی اہم حقائق پہلے ہی سامنے آسکتے تھے، اور اب ضروری ہے کہ غفلت برتنے والے اداروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔