World
شہزادہ ہری کی برطانیہ واپسی: کنگ چارلس اور کیٹ مڈلٹن آمنے سامنے
برطانوی شاہی خاندان میں شہزادہ ہری کی ممکنہ واپسی کے معاملے پر اختلافات کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ کنگ چارلس اور شہزادی کیٹ مڈلٹن اس حساس معاملے پر الگ الگ آراء رکھتے ہیں۔
برطانوی شاہی خاندان میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے کیونکہ شہزادہ ہری کی برطانیہ واپسی کے منصوبے پر شاہی محل کے اندرونی حلقوں میں اختلافات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کنگ چارلس اور شہزادی کیٹ مڈلٹن کے درمیان اس معاملے پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں کہ ہری کو شاہی خاندان میں کس حد تک دوبارہ خوش آمدید کہا جانا چاہیے۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب شہزادہ ہری نے اپنے آئندہ دورہِ برطانیہ اور خلیجی امور کے حوالے سے کچھ تجاویز پیش کیں، جس نے شاہی محل کے سینئر اراکین کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔ شاہی ذرائع کا کہنا ہے کہ کنگ چارلس اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ خاندانی تعلقات کو بہتر بنانے کے خواہشمند ہیں اور وہ ایک والد کی حیثیت سے ہری کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس، شہزادی کیٹ مڈلٹن ماضی کے تلخ تجربات اور شاہی خاندان پر ہونے والی تنقید کی وجہ سے بہت زیادہ محتاط ہیں۔ کیٹ مڈلٹن کا مؤقف ہے کہ شہزادہ ہری اور ان کی اہلیہ میگن مارکل کے بیانات نے خاندان کی ساکھ کو جو نقصان پہنچایا ہے، اسے اتنی جلدی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہری کی مکمل یا فوری واپسی کے کسی بھی ایسے منصوبے کی مخالفت کر رہی ہیں جو خاندان کے اندر مزید تناؤ کا سبب بنے۔ شاہی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ کنگ چارلس خاندانی اتحاد کو ترجیح دینا چاہتے ہیں، لیکن وہ کیٹ مڈلٹن اور شہزادہ ولیم کے خدشات کو بھی نظرانداز نہیں کر سکتے۔ برطانوی میڈیا میں اس تنازع نے ایک بار پھر شاہی خاندان کی اندرون خانہ کشمکش کو طشت از بام کر دیا ہے اور عوام بھی اس بات پر دو حصوں میں بٹے ہوئے ہیں کہ آیا شہزادہ ہری کو شاہی ذمہ داریاں یا سابقہ مقام ملنا چاہیے یا نہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ کنگ چارلس اس نازک صورتحال کو کس طرح سنبھالتے ہیں اور کیا وہ اپنے بیٹے اور خاندان کے دیگر اراکین کے درمیان کوئی درمیانی راستہ نکالنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔