LIVE
Loading Breaking News...

امریکی امیگریشن کا تارکین وطن کے ڈی این اے جمع کرنے کا عمل تیز

News Image
امریکی محکمہ داخلہ نے تارکین وطن کے ایک بڑے مجرمانہ ڈیٹا بیس میں ڈی این اے شامل کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر افراد کا کوئی مجرمانہ پس منظر نہیں ہے اور اس فہرست میں بچے بھی شامل ہیں۔
امریکی محکمہ داخلہ نے تارکین وطن کے حوالے سے اپنی پالیسیوں کو مزید سخت کرتے ہوئے تقریباً دس لاکھ تارکین وطن کے ڈی این اے ایک بڑے مجرمانہ ڈیٹا بیس میں شامل کرنے کی کوششیں نمایاں طور پر تیز کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس عمل کا نشانہ بننے والے زیادہ تر تارکین وطن وہ ہیں جن کا ماضی میں کوئی مجرمانہ پس منظر نہیں رہا ہے، اور حیرت انگیز طور پر اس میں کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے نجی نوعیت کے ڈیٹا کے تحفظ اور شہری آزادیوں کے حوالے سے اہم سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ محکمہ داخلہ کے تحت کام کرنے والے اداروں خاص طور پر امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی جانب سے تارکین وطن کی بائیو میٹرک اور بائیولوجیکل معلومات اکھٹی کرنے کا دائرہ کار تیزی سے پھیلایا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی بڑی سطح پر ڈی این اے اکٹھا کرنا اور اسے مجرمانہ ڈیٹا بیس کا حصہ بنانا عام شہریوں کی پرائیویسی پر ایک بڑا حملہ ہے۔ دوسری جانب، حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات ملکی سیکیورٹی اور بارڈر کنٹرول کو بہتر بنانے کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ ملک میں داخل ہونے والے تمام افراد کی درست شناخت اور ریکارڈ برقرار رکھا جا سکے۔ ماہرین قانون کے مطابق، اس معاملے پر آنے والے دنوں میں عدالتی چیلنجز بھی سامنے آ سکتے ہیں کیونکہ ایسے افراد کے ڈی این اے محفوظ کرنا جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہ ہو، آئینی اور قانونی بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ اس پوری صورتحال نے امریکہ میں مقیم تارکین وطن کی کمیونٹیز میں خوف اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ سول سوسائٹی اس پالیسی کے خلاف آواز بلند کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔