Technology
البرٹا میں میٹا کے تیرہ ارب ڈالر کے اے آئی ڈیٹا سینٹر کے خلاف احتجاج
کینیڈا کے صوبے البرٹا کے سیکڑوں رہائشیوں نے میٹا کی جانب سے تیرہ ارب ڈالر کے مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹر کی تعمیر کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے مقامی وسائل اور ماحول پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
کینیڈا کے صوبے البرٹا کے علاقے اسٹرجن کاؤنٹی میں سیکڑوں مقامی رہائشی سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کے ایک بہت بڑے منصوبے کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس احتجاج کا بنیادی مقصد میٹا کی جانب سے اس علاقے میں تیرہ ارب ڈالر کی لاگت سے بنائے جانے والے مصنوعی ذہانت کے ایک विशाल ڈیٹا سینٹر کی تعمیر کی مخالفت کرنا تھا۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور وہ اس منصوبے کے مقامی ماحول اور کمیونٹی پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔
میٹا کی جانب سے پیش کیے جانے والے اس منصوبے کا مقصد مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی بڑھتی ہوئی کمپیوٹنگ ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ اس بڑے پیمانے پر لگائے جانے والے ڈیٹا سینٹر کے ذریعے کمپنی اپنی ٹیکنالوجی کی صلاحیت کو مزید بہتر بنانا چاہتی ہے۔ تاہم مقامی آبادی کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے بڑے منصوبے علاقے کے بنیادی ڈھانچے، پانی کی فراہمی اور بجلی کی کھپت پر ناقابل برداشت بوجھ ڈالیں گے۔ شہریوں نے حکام اور کمپنی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس منصوبے کے ماحولیاتی اثرات کا از سر نو جائزہ لیں۔
اس احتجاج کے بعد مقامی انتظامیہ اور صوبائی حکومت پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور عوام کے خدشات کو دور کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی ان کے ماحول دوست ہونے اور مقامی وسائل کے تحفظ کے حوالے سے سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ البرٹا کا یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیوں کی توسیع پسندی اور مقامی شہریوں کے مفادات کے درمیان ٹکراؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
آنے والے دنوں میں اس احتجاج کے مزید پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ مقامی کمیونٹی کے رہنماؤں نے حکومت سے اس منصوبے کو عارضی طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ میٹا کی طرف سے ت حال اس احتجاج پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن یہ تنازع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اے آئی کے اس دور میں انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے مقامی سطح پر رضامندی حاصل کرنا کتنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔