Health
AI آکسیجن سسٹم: ہسپتالوں میں علاج کی نئی اور بہتر ٹیکنالوجی
یونیورسٹی کی زیر قیادت کی گئی ایک نئی کلینیکل تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی آکسیجن کا نظام مریضوں کی بہتری میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ جدید نظام روایتی طریقہ علاج کے مقابلے میں طبی عملے کے بوجھ کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
یونیورسٹی آف کولوراডো انشٹز (CU Anschutz) کے ماہرین کی زیر قیادت ہونے والی ایک حالیہ طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی خودکار آکسیجن کا نظام ہسپتال کے مریضوں کی دیکھ بھال کے معیار کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتا ہے۔ اس جدید نظام کے ذریعے مریضوں کو مطلوبہ حد کے اندر آکسیجن کی فراہمی کے دورانیے میں اضافہ ہوتا ہے، جو کہ صحتیابی کے عمل میں انتہائی اہم ہے۔
محققین کے مطابق، اس خودکار ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد مریضوں کے خون میں آکسیجن کی سطح کو مستحکم رکھنا اور روایتی طریقوں میں ہونے والی انسانی غلطیوں یا تاخیر کے امکانات کو کم کرنا ہے۔ روایتی دیکھ بھال کے دوران ڈاکٹروں اور نرسوں کو بار بار آکسیجن کے بہاؤ کو دستی طور پر ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے، جس سے طبی عملے پر کام کا اضافی بوجھ پڑتا ہے اور کئی بار مریض کی حالت میں اتار چڑھاؤ کا بروقت نوٹس نہیں لیا جا سکتا۔
اس کلینیکل تحقیق کے نتائج سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا نظام طبی عملے کے روزمرہ کے کام کے دباؤ کو کم کرنے میں بھی انتہائی مؤثر ثابت ہوا ہے۔ جب سسٹم خود بخود آکسیجن کی سطح کو مانیٹر اور کنٹرول کرتا ہے، تو نرسیں اور ڈاکٹر دیگر اہم طبی امور پر زیادہ توجہ مرکوز کر سکتے ہیں، جس سے مجموعی طور پر ہسپتال کے نظام اور مریضوں کی دیکھ بھال کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔
ماہرین صحت نے اس ٹیکنالوجی کو مستقبل کے ہسپتالوں کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔ یونیورسٹی آف کولوراডো انشٹز کی اس تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال نہ صرف مریضوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ یہ طبی اداروں کے وسائل کا بہتر استعمال بھی یقینی بناتا ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ اس قسم کے سسٹمز کو مستقبل میں مزید بڑے پیمانے پر ہسپتالوں میں نافذ کیا جائے گا۔