AI
وائٹ ہاؤس میں مصنوعی ذہانت کے نئے فریم ورک پر اہم اجلاس منگل کو
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گوگل، اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسے معروف ٹیک اداروں کے نمائندوں کو وائٹ ہاؤس طلب کر لیا گیا ہے۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد مصنوعی ذہانت کی نگرانی کے نئے فریم ورک اور ضابطہ کار کا جائزہ لینا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے دنیا کی معروف ترین مصنوعی ذہانت (AI) بنانے والی کمپنیوں کے سرکردہ رہنماؤں کو وائٹ ہاؤس میں ایک اہم اجلاس کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اس ملاقات میں گوگل، اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسی بڑی ٹیک کمپنیوں کے نمائندے شرکت کریں گے تاکہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی نگرانی کے لیے بنائے گئے نئے فریم ورک کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔ یہ اقدام مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔
ملاقات کے دوران زیر بحث آنے والا نیا فریم ورک بنیادی طور پر مصنوعی ذہانت تیار کرنے والے اداروں کے لیے ایک رضاکارانہ طریقہ کار وضع کرتا ہے۔ اس ضابطہ کار کا مقصد ٹیکنالوجی کی ترقی کو بلا جواز رکاوٹوں کا شکار کیے بغیر اس کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانا ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ تمام بڑی کمپنیاں حفاظتی اور اخلاقی معیارات پر متفق ہوں تاکہ مستقبل میں کسی بھی بڑے خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔
گزشتہ چند سالوں کے دوران جنریٹو اے آئی اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز میں ہونے والی حیرت انگیز پیش رفت نے دنیا بھر کی حکومتوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ امریکی انتظامیہ کا یہ قدم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پالیسی ساز اب ٹیک انڈسٹری کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہشمند ہیں تاکہ اختراعات کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی اور عوامی مفاد کا بھی بھرپور تحفظ کیا جا سکے۔ اجلاس میں فریم ورک کے مختلف حصوں پر تفصیلی بحث متوقع ہے۔