World
امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز معاہدے کی توقع
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
مشرق وسطیٰ کے جاری بحران کے تناظر میں امریکی اور بین الاقوامی سطح پر اہم سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں، جہاں حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے اہم تجارتی راستے کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان معاملات طے پانے کے قریب ہیں۔ ذرائع کے مطابق، امریکی عہدیداروں کو پوری امید ہے کہ وہ بہت جلد اس اہم ترین بحری گزرگاہ کے حوالے سے ایران کے ساتھ ایک قابلِ عمل معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس پیش رفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، تہران کی جانب سے بھی یہ تصدیق کی گئی ہے کہ عمان کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت نہایت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق، فریقین کے درمیان باہمی خدشات کو دور کرنے اور بین الاقوامی بحری جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے بات چیت تعمیری انداز میں جاری ہے۔ ان مثبت خبروں کے سامنے آتے ہی بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے، کیونکہ سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ آبنائے ہرمز جلد بحال ہو جائے گا اور تیل کی سپلائی لائنز بلا تعطل کام کرتی رہیں گی۔
مختلف مالیاتی ماہرین اور امریکی عہدیداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ رواں ہفتے کے دوران یعنی منگل یا بدھ تک اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل آزادیِ نقل و حرکت (Freedom of Movement) کے ساتھ کھولنے کا باضابطہ معاہدہ طے پا جائے۔ اس سے نہ صرف عالمی منڈی میں توانائی کا بحران ٹلنے میں مدد ملے گی بلکہ خطے میں ایک بڑی جنگ کے خطرات بھی کم ہوں گے۔ دنیا بھر کے اقتصادی حلقے اس وقت اس ممکنہ معاہدے کی کامیابی کے منتظر ہیں تاکہ عالمی تجارت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔