LIVE
Loading Breaking News...

ہسپانوی وزیر اعظم سانچز سیوطہ مہاجر بحران پر تنقید کی زد میں

News Image
ہسپانوی وزیر اعظم پیدرو سانچز کو سیوطہ کی سرحد پر ہزاروں مہاجرین کے اچانک داخلے پر شدید سیاسی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یورپی یونین نے اس معاملے پر ہسپانوی حکومت کے ردعمل کو سراہا ہے جبکہ مقامی رہنماؤں نے مغرب پر الزامات عائد کیے ہیں۔
ہسپانوی وزیر اعظم پیدرو سانچز کو اس وقت شدید سیاسی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جب یورپی یونین نے سیوطہ کی سرحد پر مہاجرین کے غیر معمولی اضافے اور بحران کے حل کے حوالے سے ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔ حالیہ دنوں میں دسیوں ہزار مہاجرین نے ہسپانوی علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی، جن میں سے اکثریت بعد میں واپس مراکش چلی گئی تاہم اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر ہسپانوی حکومت کی سرحدی سیکیورٹی پالیسیوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ دوسری جانب یورپی یونین کے اعلیٰ حکام نے ہسپانوی حکومت کی جانب سے اس بحران پر کیے جانے والے فوری اقدامات اور رسپانس کو سراہا ہے، لیکن زمینی حقائق کے پیش نظر سیوطہ کے مقامی رہنماؤں نے پڑوسی ملک مراکش پر کڑی تنقید کی ہے۔ مقامی قیادت کا ماننا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا سرحد عبور کرنا ایک منظم سازش اور انسانی المیہ تھا جس سے سختی سے نمٹنے کی ضرورت تھی۔ اطلاعات کے مطابق اس پورے تنازع اور مہاجرین کے رش کے دوران پیش آنے والے حادثات میں اب تک کم از کم بہتر افراد کے جاں بحق ہونے کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ہسپانوی حکومت کے لیے سفارتی اور داخلی دونوں محاذوں پر ایک بڑا امتحان بن چکی ہے۔ وزیر اعظم پیدرو سانچز کو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سخت گیر مؤقف نہ اپنانے پر مسلسل دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں تارکین وطن کے ساتھ ہونے والے سلوک پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔ یورپی یونین کے ساتھ ہونے والی ان تازہ ملاقاتوں میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مستقبل میں ایسے سرحدی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کی جائے تاکہ اس قسم کے انسانی سانحات سے بچا جا سکے۔