World
امریکہ سے فائرنگ بندی: ایران کی عسکری اور میزائل صلاحیت میں اضافہ
ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فائرنگ بندی کے دوران میزائلوں کی پیداوار کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔ ایران نے اس دوران اپنی دفاعی اور عسکری طاقت کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے پر خصوصی توجہ دی ہے۔
تہران: امریکہ کے ساتھ حالیہ عارضی فائرنگ بندی کے ادوار کے دوران ایران نے اپنی عسکری قوت اور دفاعی تیاریوں کو مزید مستحکم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ ایرانی حکام اور فوجی ذرائع کے مطابق اس دوران ملک کے دفاعی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور جنگی ساز و سامان کی پیداوار کو تیز کرنے پر پوری توجہ مرکوز کی گئی۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اس حکمت عملی کا مقصد کسی بھی ممکنہ چیلنج سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری کرنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) کے ترجمان حسین محبی نے گزشتہ ماہ ایک بیان میں انکشاف کیا تھا کہ فائرنگ بندی کے اس عرصے کے دوران ایران کی میزائل پیداوار کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی عسکری اداروں نے ہتھیاروں کی تیاری کی رفتار کو سست کرنے کے بجائے اسے انتہائی بلند سطح پر رکھا تاکہ ملک کی دفاعی لائنوں کو ناقابلِ تسخیر بنایا جا سکے۔
بین الاقوامی امور کے مبصرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے بیانات خطے میں موجودہ کشیدہ سکیورٹی ماحول کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں فائرنگ بندی کے باوجود فریقین کسی بھی قسم کی غفلت برتنے سے گریزاں ہیں۔ ایران کی جانب سے دفاعی پیداوار میں یہ تیزی اس بات کا ثبوت ہے کہ تہران اپنی عسکری خود کفالت اور دفاعی حکمت عملی پر مکمل یقین رکھتا ہے اور اس میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا رہا۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں سفارتی کوششیں اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے مختلف سطح پر رابطے جاری ہیں۔ تاہم، تہران کی جانب سے عسکری تیاریوں کو ہنگامی بنیادوں پر بڑھانے کا یہ عمل واضح کرتا ہے کہ ایران کسی بھی ناگہانی صورتحال یا ممکنہ جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ ملکی سطح پر اس دفاعی پالیسی کو سراہا جا رہا ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر اس کے اثرات کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔