LIVE
Loading Breaking News...

آبِ ہرمز کی بندش اور مذاکرات میں پیش رفت، مارکو روبیو کا بیان

News Image
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ آبِ ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے سلسلے میں جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ اس پیش رفت سے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل بحال کرنے میں مدد ملے گی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ انتہائی اہم سمندری گزرگاہ آبِ ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے جاری مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فریقین کے درمیان سفارتی سطح پر رابطے جاری ہیں اور اسٹریٹجک لحاظ سے اس انتہائی حساس مقام کو جلد از جلد بحال کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ آبِ ہرمز کی بندش کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی چین اور تجارتی بحری جہازوں کی نقل و حرکت شدید متاثر ہوئی تھی، جس پر عالمی برادری کو گہری تشویش تھی۔ مارکو روبیو کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے پرعزم ہے تاکہ بین الاقوامی تجارت میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تجارتی راستوں کی بندش سے نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ پوری دنیا کی معیشت دباؤ کا شکار ہوتی ہے، اور اسی تناظر میں آبِ ہرمز کو کھولنا اولین ترجیح ہے۔ سفارتی مبصرین کے مطابق، مارکو روبیو کا یہ بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پسِ پردہ ہونے والی بات چیت درست سمت میں گامزن ہے اور جلد ہی اس بحران کا کوئی قابلِ قبول حل نکلنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے مختلف معاشی ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر آبِ ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیا گیا تو اس کے نتیجے میں تیل کی عالمی قیمتوں میں استحکام آئے گا اور تجارتی جہاز رانی بلا تعطل جاری رہ سکے گی۔ دوسری جانب، متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ سلامتی اور بحری تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے اس گزرگاہ کو کھولنا انتہائی ضروری ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے بحران سے بچا جا سکے۔ امریکی وزارتِ خارجہ اس معاملے پر اتحادی ممالک کے ساتھ بھی قریبی رابطے میں ہے اور تمام امور کو باہمی مشاورت سے طے کیا جا رہا ہے۔