World
اردن فٹ بال کے سربراہ کا فیفا صدر انفینٹینو پر بلیک میلنگ کا الزام
اردن فٹ بال ایسوسی ایشن کے صدر نے فیفا کے صدر گیانی انفینٹینو پر تائید حاصل کرنے کے لیے بلیک میل کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ فیفا ورلڈ کپ کے ناکام فروخت کے معاملے پر تنازعات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کے اندرونی معاملات اور تنازعات میں ایک بار پھر شدت آ گئی ہے جب اردن فٹ بال ایسوسی ایشن کے صدر نے فیفا کے صدر گیانی انفینٹینو پر انتہائی سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اردن کے فٹ بال حکام نے الزام لگایا ہے کہ فیفا کے صدر اپنی حمایت حاصل کرنے اور من مانے فیصلے نافذ کرنے کے لیے مبینہ طور پر بلیک میلنگ جیسے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں، جس سے فٹ بال کے عالمی ایوانوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ یہ حالیہ تنازعہ فیفا ورلڈ کپ کے حوالے سے ہونے والے ایک ناکام معاہدے اور فروخت کے عمل کے بعد سامنے آیا ہے، جس پر دنیا بھر کے مختلف فٹ بال حلقوں میں پہلے ہی بے چینی پائی جاتی تھی۔ اردن کے عہدیدار کی جانب سے لگائے جانے والے ان الزامات نے فیفا کی انتظامیہ پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں اور فیفا صدر کے ناقدین کی فہرست میں ایک اور اہم نام کا اضافہ ہو گیا ہے۔ کھیل کے مبصرین کا ماننا ہے کہ فیفا کے اندرونی ڈھانچے اور فیصلوں کے طریقہ کار میں شفافیت کی شدید کمی ہے، جس کی وجہ سے آئے روز رکن ممالک اور فیفا کی اعلیٰ قیادت کے درمیان تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، فیفا یا صدر گیانی انفینٹینو کی طرف سے فوری طور پر ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم فٹ بال کے حلقوں میں اس خبر کے بعد شدید تشویش پائی جارہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان الزامات کی تحقیقات نہ کی گئیں تو یہ تنازعہ عالمی سطح پر فٹ بال کے کھیل کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے اور رکن ممالک کے درمیان اتحاد کو پارہ پارہ کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید اہم انکشافات متوقع ہیں کیونکہ کئی دیگر ممالک کے فٹ بال ایسوسی ایشنز نے بھی فیفا کی موجودہ پالیسیوں پر کھل کر تحفظات کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔