LIVE
Loading Breaking News...

آزاد کشمیر الیکشن: پی پی پی اور آئی پی پی مظفرآباد میں آگے

News Image
آزاد کشمیر میں مظفرآباد ڈویژن کی معطل شدہ دو حلقوں میں پولنگ کے بعد غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی اور استحکام پاکستان پارٹی کو برتری حاصل ہو گئی ہے۔ انتخابی عمل کے دوران مختلف حلقوں میں دھاندلی کے الزامات اور شکایات بھی سامنے آئی ہیں جن پر الیکشن کمیشن کو درخواستیں دی گئی ہیں۔
اسلام آباد اور مظفرآباد میں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے سلسلے میں مظفرآباد ڈویژن کے ان دو حلقوں میں پولنگ کا عمل مکمل ہو گیا ہے جہاں خراب موسم اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ووٹنگ ملتوی کر دی گئی تھی۔ حلقہ ایل اے 27 مظفرآباد-I (کوٹلہ) اور ایل اے 28 مظفرآباد-II (لچھراٹ) کے بیشتر پولنگ اسٹیشنز پر اتوار اور منگل کے روز ووٹ ڈالے گئے۔ ابتدائی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار سید بازل علی نقوی نے ایل اے 28 سے کامیابی حاصل کی جبکہ مسلم لیگ ن کے چوہدری شہزاد محمود کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی مظفرآباد ڈویژن میں پیپلز پارٹی کی نشستوں کی تعداد چار ہو گئی ہے، جو کہ مسلم لیگ ن کے برابر ہے۔ دوسری جانب، حلقہ ایل اے 27 (کوٹلہ) میں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے سردار تبارک علی ابتدائی نتائج کے مطابق نمایاں برتری حاصل کیے ہوئے ہیں اور وہ اس نو تشکیل شدہ جماعت کے لیے اسمبلی کی پہلی نشست جیتنے کے قریب ہیں۔ اس حلقے میں مسلم لیگ ن کی نورین عارف دوسرے اور پیپلز پارٹی کے سردار جاوید ایوب تیسرے نمبر پر ہیں۔ انتخابات کے دوران دونوں بڑی حریف سیاسی جماعتوں کے درمیان لفظی جنگ بھی تیز ہو گئی ہے اور پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن پر دھاندلی اور انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے شدید الزامات عائد کیے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے الیکشن کمیشن کو باضابطہ شکایات جمع کروائی گئی ہیں جن میں پولنگ عملے کی مبینہ ملی بھگت، ووٹوں کی جعلسازی اور بیلٹ باکسز کے غائب ہونے کے الزامات شامل ہیں۔ پارٹی کی نائب صدر شیری رحمان نے بھی اس حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ویڈیوز اور دیگر شواہد الیکشن کمیشن کو فراہم کیے ہیں اور فوری قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ادھر الیکشن کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ موصول ہونے والی ویڈیوز اور الزامات کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے اور شواہد کی تصدیق کے بغیر حتمی فیصلہ نہیں دیا جا سکتا۔ آزاد کشمیر میں یہ انتخابات سیکیورٹی خدات اور انتظامی امور کے پیش نظر مختلف مراحل میں منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں کشیدگی اور سیاسی گرما گرمی کا عنصر بھی نمایاں طور پر دیکھا جا رہا ہے۔