Business
بھارت اور ازبکستان کی باہمی تجارت تین سال میں دوگنا کرنے کا ہدف
بھارتی وزیر تجارت پیوش گوئل نے نئی دہلی میں ازبکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو موجودہ ڈیڑھ ارب ڈالر سے بڑھا کر تین سال میں دوگنا کرنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے مائننگ، ٹیکسٹائل، ادویات اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے وسیع مواقع کی نشاندہی کی۔
بھارت کے وزیر تجارت اور صنعت پیوش گوئل نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اور ازبکستان کو آئندہ تین سال کے اندر اپنی دوطرفہ تجارت کو موجودہ ڈیڑھ ارب ڈالر سے بڑھا کر دوگنا کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بات تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے حوالے سے ہونے والے ایک اہم اجلاس سے خطاب کے دوران کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں برادر ممالک کے پاس تجارتی حجم میں اضافے کے لیے بے پناہ صلاحیت موجود ہے جس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔پیوش گوئل نے اس موقع پر مخصوص شعبوں کی نشاندہی کی جن میں تعاون کو فوری طور پر فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ان شعبوں میں مائننگ، ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکلز، صحت کی دیکھ بھال اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر سرِ فہرست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی کمپنیاں ازبکستان کے ساتھ ان شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے کی خواہشمند ہیں تاکہ دونوں ملکوں کے عوام کو معاشی فوائد حاصل ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل معیشت آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور اس میدان میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔تجارت کے فروغ کے اس عزم سے دونوں خطوں میں معاشی سرگرمیوں میں تیزی آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ازبکستان وسطی ایشیا میں بھارت کے لیے ایک اہم تجارتی دروازہ ہے اور اس نوعیت کے اقدامات سے خطے میں تجارتی راہداریوں کو بھی مزید مستحکم کیا جا سکے گا۔ دونوں حکومتیں باہمی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے آئندہ بھی اعلیٰ سطح کے رابطے جاری رکھنے پر متفق ہیں۔