World
ٹرمپ کا ایران حملہ منسوخ، تیل کی قیمتوں میں کمی اور اسٹاک مارکیٹ میں تیزی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر مجوزہ بڑا حملہ منسوخ کرنے کے اعلان کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً پانچ فیصد کمی واقع ہوئی جبکہ حصص بازار میں بھی مثبت رجحان دیکھا گیا۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ایک 'بڑے حملے' کو منسوخ کرنے کے اچانک اعلان کے بعد عالمی سطح پر کشیدگی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی ذرائع سے مذاکرات کی بحالی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ اس خوش آئند سیاسی پیش رفت نے عالمی مالیاتی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اور سرمایہ کاروں نے سکھ کا سانس لیا ہے۔
اس فیصلے کے فوراً بعد مالیاتی منڈیوں میں مثبت رجحان دیکھا گیا جہاں ڈاؤ جونز کے فیوچرز میں 204 پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کو خدشہ تھا کہ ایران کے ساتھ عسکری تصادم کی صورت میں عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے، لیکن حملے کے خاتمے اور بات چیت کے دروازے کھلنے سے کاروباری حلقوں میں اعتماد بحال ہوا ہے۔
دوسری جانب، توانائی کی عالمی منڈی میں بھی اس خبر کا فوری ردعمل سامنے آیا جہاں تیل کی قیمتوں میں تقریباً پانچ فیصد تک بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔ عسکری کشیدگی کم ہونے کی وجہ سے تیل کی رسد سے وابستہ خدشات وقتی طور پر ٹل گئے ہیں، جس سے تیل کے نرخوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی اور صارفین کو مہنگائی کے حوالے سے بڑی راحت ملی ہے۔
بین الاقوامی سیاسی تجزیہ کار اس پیش رفت کو خطے میں امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ تاحال دونوں ممالک کے درمیان تمام تنازعات حل نہیں ہوئے، تاہم مذاکرات کی میز پر واپسی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ فریقین جنگ کی بجائے سفارت کاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ عالمی برادری بھی اس فیصلے کو سراہتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مزید کوششوں کی توقع کر رہی ہے۔