World
اسرائیل لبنان مذاکرات: ساتویں دور کا آغاز اور اہم تفصیلات
اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کا ساتواں دور شروع ہو گیا ہے۔ اس دوران خطے میں امن اور سکیورٹی کے امور پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنے اور سرحدی امور طے کرنے کے لیے سفارتی مذاکرات کا ساتواں دور باضابطہ طور پر شروع ہو چکا ہے۔ اس تازہ ترین دور میں دونوں فریقین کے درمیان اہم علاقائی اور سکیورٹی امور پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے تاکہ جاری تنازع کو حل کرنے کی کوئی سبیل نکالی جا سکے۔ بین الاقوامی برادری اور ثالثی کرنے والے ممالک کی نگاہیں اس اہم بیٹھک پر مرکوز ہیں جو خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل سمجھی جا رہی ہے۔ دوسری جانب، سیاسی اور عسکری سطح پر مختلف ردعمل بھی سامنے آ رہے ہیں جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
مذاکرات کے اس نئے مرحلے سے قبل حزب اللہ کے رہنما شیخ قاسم نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ جب تک اسرائیلی قبضہ برقرار ہے، مزاحمت جاری رہے گی۔ انہوں نے ان مذاکرات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی کوششوں سے خطے میں بہتری کی کوئی امید وابستہ نہیں کی جا سکتی۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید الجھ سکتے ہیں۔ ان بیانات نے مذاکرات کی کامیابی کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے اور مبصرین کی طرف سے بھی مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
خطے کے دیگر ممالک بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اپنی سفارتی سرگرمیاں تیز کر چکے ہیں۔ مصر کے وزیر خارجہ نے لبنان کے وزیراعظم کے ساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران روم میں ہونے والی بات چیت پر تبادلہ خیال کیا اور لبنانی ریاست کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کیا۔ اسی طرح، اٹلی اور ترکی نے بھی لبنان، غزہ اور بحیرہ احمر کی سفارت کاری کے حوالے سے اپنے مؤقف کو ہم آہنگ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ تمام سفارتی کوششیں اس بات کی غماز ہیں کہ عالمی برادری خطے کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے متحرک ہے، تاہم زمینی حقائق اور فریقین کے سخت مؤقف کے باعث امن کی راہ میں تاحال کئی رکاوٹیں حائل ہیں۔