LIVE
Loading Breaking News...

ناسا کے مریخ پر پراسرار انسان کی تصویر نے ہلچل مچا دی

News Image
ناسا کے اسپیریٹ روور کی جانب سے 2007 میں مریخ کی کھینچی گئی ایک پرانی تصویر ایک بار پھر انٹرنیٹ پر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ اس تصویر میں دور فاصلے پر ایک انسانی شکل جیسی پراسرار شخصیت کو چلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس پر صارفین حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔
خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کی جانب سے مریخ کے سیارے پر برسوں پہلے بھیجی گئی ایک تصویر ایک بار پھر سوشل میڈیا پر شدید بحث اور تجسس کا مرکز بن گئی ہے۔ یہ تصویر ناسا کے اسپیریٹ روور (Spirit Rover) نے سنہ 2007 میں سرخ سیارے کے ایک پینورامک منظر کے دوران ریکارڈ کی تھی، جس میں مبینہ طور پر ایک انسانی جیسی شکل یا مجسمے کو دور افق پر چلتے ہوئے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اس تصویر کے انٹرنیٹ پر دوبارہ سرگرم ہونے کے بعد خلائی شائقین اور محققین میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا یہ محض چٹانوں کا ایک قدرتی اور انوکھا توازن ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور راز پوشیدہ ہے۔ خلائی امور کے ماہرین اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مریخ یا دیگر سیاروں پر ایسی عجیب و غریب شکلیں دکھائی دینا کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ اس رجحان کو پیرسائڈولیا (Pareidolia) کہا جاتا ہے، جو انسانی دماغ کی وہ خاصیت ہے جس کے تحت وہ بے جان اور بے ترتیب چیزوں یا چٹانوں میں جانی پہچانی شکلیں، بالخصوص انسانی چہرے یا جسم تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسپیریٹ روور کے کیمرے سے لی گئی اس تصویر میں بھی دراصل مریخ کی سخت پتھریلی سطح، سایوں اور ہوا کے کٹاؤ کا شکار چٹانوں کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو زاویہ نظر کی وجہ سے دور سے دیکھنے پر ایک انسان کی مانند دکھائی دیتا ہے۔ اسپیریٹ روور نے اپنے فعال دور میں مریخ کی ارضیات اور تاریخ کو سمجھنے کے لیے ہزاروں تصاویر زمین پر ارسال کی تھیں، جن میں سے اکثر میں مختلف قسم کے مناظر دیکھنے کو ملے۔ ماضی میں بھی کیوروسٹی اور پرسیویرینس جیسے روورز کی جانب سے مریخ پر چمچ، اڑن طشتری اور دروازوں جیسی مشکوک شکلیں دیکھی جا چکی ہیں، جن کی بعد میں سائنسی بنیادوں پر تردید کر دی گئی اور ثابت کیا گیا کہ یہ صرف قدرتی ارضیاتی ساختیں ہیں۔ تاہم، خلائی تحقیق میں دلچسپی رکھنے والے عام افراد اور انٹرنیٹ صارفین کے لیے ایسے مناظر ہمیشہ سے ایک سنسنی خیز اور پرکشش موضوع رہے ہیں۔ یہ حالیہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ کائنات کے اسرار اور خلائی تہمیدات میں انسان کی دلچسپی کتنی گہری ہے۔ اگرچہ سائنسی حلقے ان تصاویر کو محض ارضیاتی اتفاق قرار دیتے ہیں، لیکن عام عوام میں اس طرح کے مناظر خلائی مخلوق اور مریخ پر زندگی کے آثار کے حوالے سے امیدوں کو تازہ رکھتے ہیں۔ ناسا اور دیگر خلائی ادارے اپنے مشنز کے ذریعے مریخ پر سائنسی حقائق کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اس سرخ سیارے کے حقیقی ماضی اور حال سے پردہ اٹھایا جا सके۔