Technology
اوپن اے آئی کے لگژری انفلوئنسرز ٹرپ پر شدید تنقید
مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی کی جانب سے انفلوئنسرز کے لیے منعقدہ پہلے لگژری ٹرپ پر آن لائن حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ اس تقریب پر انٹرنیٹ صارفین اور ٹیک کمیونٹی میں شدید غصہ پایا جاتا ہے کیونکہ اس سے قبل ایسی سرگرمیوں کی توقع نہیں تھی۔
مصنوعی ذہانت کے میدان میں دنیا بھر میں معروف کمپنی 'اوپن اے آئی' کی جانب سے حال ہی میں ایک خصوصی اور لگژری برانڈ ٹرپ کا اہتمام کیا گیا، جس میں چند منتخب سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے شرکت کی۔ اس دورے کے سامنے آنے کے بعد ہی آن لائن دنیا میں ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے کمپنی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق، یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے اثرات، اس کے اخلاقی استعمال اور ملازمتوں پر پڑنے والے منفی اثرات کے حوالے سے شدید بحث جاری ہے۔
تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ایک ایسی کمپنی جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی سائنسی اور تکنیکی تحقیقی تنظیموں میں شمار کرتی ہے، اسے اس قسم کے سطحی اور پرتعیش انفلوئنسر کلچر سے گریز کرنا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے اس بات پر بھی غصے کا اظہار کیا کہ عام لوگ اور تخلیق کار جہاں ایک طرف اے آئی کی وجہ سے معاشی غیر یقینی کا شکار ہیں، وہیں چند خوش نصیب انفلوئنسرز کو لگژری دوروں پر تفریح کروائی جا رہی ہے۔ اس اقدام نے کمپنی کے پبلک ریلیشنز اور برانڈ امیج کو بھی زبردست نقصان پہنچایا ہے۔
دوسری جانب، اوپن اے آئی کے حامیوں اور ترجمانوں کا موقف ہے کہ یہ برانڈ کی تشہیر اور مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعے عام لوگوں تک اپنی ٹیکنالوجی کے فوائد پہنچانے کی ایک عام کوشش تھی۔ تاہم، اس وضاحت کے باوجود ناقدین اسے مطمئن کرنے کے لیے ناکافی قرار دے رہے ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیوں کو اپنے ہر قدم پر انتہائی احتیاط برتنی چاہیے کیونکہ ان کے چھوٹے سے چھوٹے فیصلے بھی عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں اور صارفین کی جانب سے سخت جانچ پڑتال کا سامنا کرتے ہیں۔