Business
مائیکران کے حصص میں کمی، چینی رئیول کی ڈی ریم ایکسپینشن کا اثر
امریکی سیمی کنڈکٹر کمپنی مائیکران ٹیکنالوجی کے حصص میں اس وقت نمایاں کمی دیکھی گئی جب ایک چینی حریف نے ڈی ریم چپس کی پیداوار بڑھانے کے منصوبے کا اعلان کیا۔ اس خبر کے بعد مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی جانب سے محتاط رویہ اختیار کیا گیا۔
امریکی سیمی کنڈکٹر اور میموری چپ بنانے والی نامور کمپنی مائیکران ٹیکنالوجی کے حصص میں پیر کے روز باقاعدہ تجارتی سیشن کے دوران تقریباً تین اعشاریہ سات فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی۔ یہ مندی اس رپورٹ کے بعد سامنے آئی جس میں بتایا گیا کہ ایک چینی حریف کمپنی عالمی منڈی میں اپنی ڈی ریم (DRAM) چپس کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس پیش رفت سے عالمی چپ انڈسٹری میں مقابلہ مزید سخت ہونے کا خدشہ ہے۔
رائٹرز کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس کے مطابق چینی رئیول کمپنیوں کی جانب سے میموری اور اسٹوریج چپ کے شعبے میں سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت کو وسعت دینے کے اقدامات نے امریکی سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ مائیکران ٹیکنالوجی، جو کہ دنیا کے بڑے میموری چپ ساز اداروں میں شمار ہوتی ہے، اس ممکنہ مسابقت کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے دباؤ کا شکار ہے۔ سیشن کے دوران کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں گراوٹ نے تکنیکی اور بنیادی دونوں لحاظ سے مارکیٹ کے شرکاء کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیمی کنڈکٹر کی صنعت اس وقت جغرافیائی سیاسی تناؤ اور سپلائی چین کے چیلنجز سے گزر رہی ہے۔ چین کی جانب سے گھریلو چپ سازی کی صنعت کو فروغ دینے اور پیداوار بڑھانے کے عزم نے عالمی مارکیٹ کے حرکیات کو بدلنا شروع کر دیا ہے۔ مائیکران کے لیے یہ صورتحال ایک بڑا چتھرا ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ چینی کمپنیاں نہ صرف مقامی مارکیٹ بلکہ عالمی سطح پر بھی کم قیمت پر چپس فراہم کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہی ہیں۔
اس پوری صورتحال پر سرمایہ کاروں کی گہری نظر ہے اور آنے والے دنوں میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں مزید اتار چڑھاؤ کی توقع کی جا رہی ہے۔ ماہرینِ اقتصادیات کا ماننا ہے کہ اگر چینی حریف اپنے منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد کرتے ہیں تو اس سے مائیکران سمیت دیگر مغربی چپ ساز کمپنیوں کے منافع کے مارجن متاثر ہو سکتے ہیں۔ کمپنی کے ترجمان یا انتظامیہ کی جانب سے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے آئندہ حکمت عملی کا انتظار کیا جا رہا ہے۔