World
نیو ساؤتھ ویلز انشورنس بحران: ایمرجنسی سروسز لیوی ختم کرنے کا مطالبہ
آسٹریلیا کے صوبے نیو ساؤتھ ویلز میں ہوم انشورنس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد حکومت پر شدید دباؤ بڑھ رہا ہے۔ شہریوں اور کاروباری حلقوں کی جانب سے ایمرجنسی سروسز لیوی کو فی الفور ختم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
آسٹریلیا کے صوبے نیو ساؤتھ ویلز میں ہوم انشورنس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ٹیکسز کے خلاف عوام اور کاروباری طبقے کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں شہریوں کو موصول ہونے والے انشورنس بلوں میں ہزاروں ڈالر کا اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ حکومتی ٹیکس اور لیویز ہیں۔ ماہرین اور متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اس دور میں انشورنس پریمیم کے ساتھ ساتھ بھاری بھرکم حکومتی ٹیکسز نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب باضابطہ طور پر ایمرجنسی سروسز لیوی کو ختم کرنے کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایک عام شہری ہانس کو رواں سال گھر کے انشورنس بل میں پچھلے سال کے مقابلے میں قریباً ایک ہزار ڈالر کا اضافی بوجھ اٹھانا پڑا، جس کے بعد ان کا کل بل تین ہزار پانچ سو نوے ڈالر تک پہنچ گیا۔ اس مجموعی رقم کا تقریباً ایک بڑا حصہ حکومت کو دیے جانے والے مختلف ٹیکسز اور ایمرجنسی سروسز لیوی پر مشتمل تھا۔ شہریوں کا مؤقف ہے کہ حکومت کی جانب سے لگائے جانے والے یہ اضافی چارجز انشورنس کو عام آدمی کی پہنچ سے دور کر رہے ہیں، اور بہت سے لوگ اب بڑھتی ہوئی لاگت کی وجہ سے اپنے گھروں کی بیمہ پالیسیاں ترک کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر اپوزیشن جماعتوں اور مختلف فلاحی تنظیموں نے بھی حکومت پر دباؤ بڑھانا شروع کر دیا ہے کہ وہ فوری طور پر پالیسیوں پر نظرثانی کرے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی سروسز کے لیے فنڈنگ کا موجودہ نظام غیر منصفانہ ہے کیونکہ یہ براہ راست انشورنس کرانے والے شہریوں پر بھاری بوجھ ڈالتا ہے، جبکہ وہ لوگ جو انشورنس نہیں کرواتے وہ اس کا حصہ نہیں بنتے۔ حکومت سے پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر اس لیوی کا خاتمہ کرے تاکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں عوام کو کچھ ریلیف فراہم کیا جا سکے اور انشورنس دوبارہ سے سستی ہو سکے۔