LIVE
Loading Breaking News...

افغانستان میں غذائیت کی کمی کا بحران اور امدادی کٹوتیاں

News Image
اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق افغانستان میں شدید مالی بحران اور امدادی کٹوتیوں کی وجہ سے بچوں کی غذائیت کی کمی کا بحران قابو سے باہر ہو رہا ہے۔ امداد کی بندش کے باعث طبی مراکز نے ضرورت مند خاندانوں کو واپس بھیجنا شروع کر دیا ہے جس سے بچوں کی اموات میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ডব্লিউ ایف پی) نے انتباہ جاری کیا ہے کہ افغانستان میں بچوں کی غذائیت کی کمی کا بحران تیزی سے قابو سے باہر ہو رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر فنڈز میں کمی اور امدادی کٹوتیوں کے باعث ملک بھر میں قائم صحت اور خوراک کے مراکز اب شدید دباؤ کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے کئی کلینکس نے بے سہارا اور پریشان حال خاندانوں کو طبی امداد فراہم کیے بغیر واپس موڑنا شروع کر دیا ہے۔ اس صورتحال نے ملک میں انسانی المیے کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق غذائیت کی کمی کا شکار معصوم بچوں کی اموات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ امدادی خوراک کی تقسیم کے عمل میں شدید رکاوٹیں حائل ہو چکی ہیں۔ عام افغان شہری پہلے ہی دہائیوں کے تنازعات، اقتصادی تباہی اور بے روزگاری کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں، اور اب غذائی قلت کے اس نئے طوفان نے انہیں مکمل طور پر نڈھال کر کے رکھ دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر بین الاقوامی امداد بحال نہ کی گئی تو یہ بحران مزید ہزاروں بچوں کی زندگیوں کو نگل سکتا ہے۔ امداد کی کمی کے اس بحران نے صحت کے مقامی ڈھانچے کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ ہسپتالوں اور کلینکس میں ادویات، خوراک اور علاج معالجے کے لیے ضروری سامان کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ ڈاکٹرز اور امدادی کارکنان بے بس نظر آتے ہیں کیونکہ وہ ان بچوں کو بچانے سے قاصر ہیں جو شدید غذائیت کی کمی کی وجہ سے موت اور حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ عالمی اداروں نے ایک بار پھر عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے افغان بچوں کی زندگیوں کو بچانے کے لیے فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر فنڈز فراہم کیے جائیں تاکہ اس انسانی المیے کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔