World
شور سے تنگ شخص کا عدالت میں مچھلیوں کو ہلاک کرنے کا اعتراف
برطانیہ میں ایک شخص نے عدالت میں اعتراف کیا ہے کہ اس نے تالاب کے واٹر پمپ کے مسلسل شور سے تنگ آ کر مچھلیوں کو مار ڈالا۔ ملزم کے مطابق تالاب کے شور نے اسے ذہنی طور پر بیمار کر دیا تھا جس کی وجہ سے اس نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔
لندن: تالاب کے واٹر پمپ کے شور سے شدید پریشانی میں مبتلا ایک شخص نے عدالت میں یہ اعتراف کر لیا ہے کہ اس نے تالاب کی مچھلیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ عدالت میں سماعت کے دوران یہ انکشاف سامنے آیا کہ جیری ڈفی نامی شخص کو راتوں کو نیند نہ آنے کی شکایت تھی جس کی وجہ تالاب میں لگے پانی کے پمپ کا شور تھا۔ ملزم کا کہنا تھا کہ اس مسلسل شور نے اسے ذہنی طور پر شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا تھا اور وہ ذہنی توازن کھونے کے قریب پہنچ چکا تھا، جس کی وجہ سے اس نے یہ قدم اٹھایا۔
عدالتی کارروائی کے دوران جیری ڈفی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل طویل عرصے سے اس شور کی وجہ سے شدید ذہنی اذیت کا شکار تھے۔ واٹر پمپ کی آواز اتنی بلند تھی کہ اس نے ملزم کی روزمرہ کی زندگی اور سکون کو برباد کر کے رکھ دیا تھا۔ پمپ کی مسلسل آواز کی وجہ سے موکل کو نیند کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں ان کا اعصابی نظام متاثر ہوا اور وہ اس قسم کا انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور ہو گئے۔
دوسری جانب، عدالت نے اس عجیب و غریب معاملے پر حیرت کا اظہار کیا ہے اور اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا شور کی وجہ سے پیدا ہونے والی ذہنی کیفیت کو قانونی طور پر جرم میں تخفیف کی وجہ مانا جا سکتا ہے یا نہیں۔ عدالت نے اس کیس کی مزید سماعت کے لیے تاریخ مقرر کر دی ہے جبکہ اس واقعے نے مقامی سطح پر بھی شہریوں کی توجہ مبذول کرا دی ہے، جہاں شور کی آلودگی اور اس کے انسانی نفسیات پر پڑنے والے اثرات پر بحث شروع ہو گئی ہے۔