World
قازقستان میں جنگلی حیات کی بحالی، پہلا چیتا آزاد
قازقستان نے طویل عرصے سے معدوم کیسپیئن شیر کی بحالی کے منصوبے کے تحت ستر برس سے زائد عرصے بعد پہلا آمور چیتا جنگل میں آزاد کیا ہے۔ اس تاریخی اقدام کا مقصد ملک کے جنگلی حیات کے ماحولیاتی نظام کو دوبارہ بحال کرنا اور معدوم نسلوں کے خلا کو پر کرنا ہے۔
قازقستان کے محکمہ جنگلی حیات نے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے ستر برس سے زائد عرصے میں پہلی بار ایک آمور چیتے کو کھلے جنگل میں آزاد کر دیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملک میں صدیوں پہلے معدوم ہو جانے والے کیسپیئن شیر کی نسل کے خلا کو پر کرنا اور مقامی ماحولیاتی نظام کو اس کی اصل حالت میں بحال کرنا ہے۔ حکام کے مطابق اس پرجوش منصوبے پر کئی سالوں سے کام جاری تھا تاکہ جنگلی حیات کے قدرتی توازن کو دوبارہ قائم کیا جا سکے۔
کیسپیئن شیر کبھی قازقستان اور وسطی ایشیا کے جنگلات میں کثرت سے پائے جاتے تھے، تاہم بیسویں صدی کے وسط تک انسانوں کی مداخلت اور شکار کی وجہ سے یہ نسل مکمل طور پر معدوم ہو گئی تھی۔ اب سائنسی ماہرین اور بین الاقوامی تنظیموں کے تعاون سے آمور چیگوں کو اس خطے میں لایا جا رہا ہے جو جینیاتی طور پر کیسپیئن شیروں سے انتہائی قریب پائے جاتے ہیں۔ ماہرین کو امید ہے کہ یہ چیتے اس نئے ماحول میں نہ صرف خود کو ڈھال لیں گے بلکہ ان کی آبادی میں بھی بتدریج اضافہ ہوگا۔
آزاد کیے گئے چیتے کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھنے کے لیے جدید ترین سیٹلائٹ کالرز اور ٹریکنگ ڈیوائسز کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ اس کی صحت اور سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ماہرین حیوانات نے اس قدم کو عالمی سطح پر تحفظِ حیوانات کی تاریخ میں ایک سنگ میل قرار دیا ہے۔ اس سے نہ صرف قازقستان کی حیاتیاتی تنوع کو فروغ ملے گا بلکہ دنیا بھر میں معدوم ہونے والے دیگر جانوروں کو بچانے کے لیے بھی نئی راہیں کھلیں گی۔