Technology
علی بابا کا نیا طاقتور AI ماڈل Qwen3.8-Max متعارف
چینی ای کامرس کمپنی علی بابا نے اپنی اوپن سورس لارج لینگویج ماڈلز کی سیریز میں ایک شاندار اضافے کا اعلان کیا ہے۔ نیا ماڈل Qwen3.8-Max اب تک کا سب سے طاقتور ایل ایل ایم ہے جو 2.4 ٹریلین پیرامیٹرز پر مشتمل ہے۔
علی بابا گروپ ہولڈنگ لمیٹڈ نے مصنوعی ذہانت (AI) کی دنیا میں ایک اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اپنے مشہور اوپن سورس لارج لینگویج ماڈلز (LLMs) کی سیریز میں ایک جدید ترین اضافے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ چینی ای کامرس اور ٹیکنالوجی کے اس دیو قامت ادارے کا نیا متعارف کردہ ماڈل 'Qwen3.8-Max' کمپنی کی تاریخ کا اب تک کا سب سے زیادہ صلاحیتوں کا حامل اور جدید ترین ماڈل مانا جا رہا ہے۔ اس نئی پیشرفت نے عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے حلقوں میں بالخصوص مصنوعی ذہانت کے ماہرین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
اس نئے ماڈل کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کے حجم اور طاقت میں پوشیدہ ہے، کیونکہ Qwen3.8-Max کل 2.4 ٹریلین پیرامیٹرز پر مشتمل ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ تعداد پچھلے ماڈلز کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے، مثال کے طور پر یہ پچھلے قوین ماڈلز کے مقابلے میں تقریباً سات گنا زیادہ پیرامیٹرز کا حامل ہے۔ اس وسیع پیمانے پر پیرامیٹرز کی موجودگی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ یہ ماڈل پیچیدہ ترین انسانی زبانوں کے اشاروں، استدلال، کوڈنگ اور ملٹی میڈیا ڈیٹا کو انتہائی درستگی اور تیزی کے ساتھ پروسیس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
علی بابا کی جانب سے اس ماڈل کو اوپن سورس رکھنے کا فیصلہ بھی صنعت میں خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے عالمی سطح پر محققین، ڈویلپرز اور کاروباری اداروں کو جدید ترین اے آئی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔ اس سے قبل بھی علی بابا کے 'Qwen' ماڈلز نے اوپن سورس کمیونٹی میں اپنی بہترین کارکردگی کی وجہ سے نمایاں مقام حاصل کیا تھا، اور اب Qwen3.8-Max کے آنے کے بعد اس سیریز کی ساکھ میں مزید اضافہ ہوگا۔ ٹیکنالوجی کے مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ نیا ماڈل مارکیٹ میں موجود دیگر حریف اے آئی سسٹمز کو سخت مقابلہ فراہم کرے گا۔
آنے والے دنوں میں اس ماڈل کے ذریعے ای کامرس، کسٹمر سروس، تعلیمی ٹولز اور کاروباری خودکار نظام میں مزید انقلاب آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ علی بابا کا یہ قدم اس بات کا ثبوت ہے کہ چینی ادارے عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں صفِ اول کا کردار ادا کرنے کے لیے تیزی سے کام کر رہے ہیں، اور اوپن سورس ماڈلز کے ذریعے دنیا بھر کے ڈیولپرز کو بااختیار بنا رہے ہیں۔