LIVE
Loading Breaking News...

یو پی آئی ٹرانزیکشنز پر ایم ڈی آر کی واپسی کی امیدیں روشن

News Image
پیمنٹ اینڈ سیٹلمنٹ سسٹمز ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کے تحت مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹس کی واپسی کا امکان ہے۔ اس اقدام سے بینکوں اور فن ٹیک کمپنیوں کو اپنی ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر کی سرمایہ کاری واپس حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
پیمنٹ اینڈ سیٹلمنٹ سسٹمز ایکٹ میں مجوزہ ترامیم نے مالیاتی اور کاروباری حلقوں میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ حکومت کی طرف سے ان ترامیم پر غور کیا جا رہا ہے جس کا بنیادی مقصد بڑی ویلیو کے یو پی آئی (UPI) ٹرانزیکشنز کے لیے مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹس (MDR) کو دوبارہ متعارف کرانا ہے۔ اس ممکنہ فیصلے سے طویل عرصے سے اس شعبے میں کی جانے والی سرمایہ کاری کے حوالے سے بینکوں اور فن ٹیک کمپنیوں کو بڑی راحت ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگیاں پاکستان اور خطے بھر میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں، لیکن اس کے لیے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ مالیاتی اداروں کے لیے ایک بڑا خرچ ہے۔ بینکوں اور مالیاتی اداروں کی جانب سے طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا تھا کہ بغیر کسی معاوضے یا کمیشن کے بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کو سنبھالنا طویل مدت میں پائیدار نہیں ہے۔ جب تک مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹس کو مناسب طریقے سے بحال نہیں کیا جاتا، اس وقت تک نئی ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی سسٹمز میں بھاری سرمائے کی سرمایہ کاری جاری رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ مجوزہ قانون سازی اسی مسئلے کا احاطہ کرتی ہے تاکہ مالیاتی اداروں کو یہ سہولت ملے کہ وہ اپنے اخراجات پورے کر سکیں اور ساتھ ہی ساتھ ڈیجیٹل اکو سسٹم کے معیار کو بھی بہتر سے بہتر بنا سکیں۔ اس پیشرفت سے نہ صرف روایتی بینکوں کو فائدہ ہوگا بلکہ فن ٹیک اسٹارٹ اپس جو کہ جدید مالیاتی حل فراہم کرتے ہیں، ان کی مالی پوزیشن بھی مستحکم ہوگی۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے بعد اس بل کو حتمی شکل دے گی تاکہ صارفین کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کا رجحان بھی متاثر نہ ہو اور مالیاتی ادارے بھی خسارے سے بچ سکیں۔ معاشی ماہرین اس قدم کو ڈیجیٹل معیشت کی پائیداری کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں، جس کے اثرات آنے والے مہینوں میں باضابطہ طور پر نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔