World
امریکہ کی ناکہ بندی کے خلاف ایران کا پاکستانی بندرگاہوں پر انحصار
امریکہ کی طرف سے عائد کردہ معاشی پابندیوں اور ناکہ بندی کے دباؤ سے نمٹنے کے لیے ایران نے پاکستانی بندرگاہوں کو متبادل تجارتی راستے کے طور پر استعمال کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے اور ترجیحی تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے اہم ملاقاتیں جاری ہیں۔
امریکہ کی جانب سے عائد کردہ سخت معاشی پابندیوں اور ناکہ بندی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایران نے اب پاکستانی بندرگاہوں کو ایک اہم اور محفوظ متبادل تجارتی راستے کے طور پر استعمال کرنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران کی حکومت خطے میں اپنے تجارتی تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے اسلام آباد کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہاں ہے۔ اسی پس منظر میں پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے اہم تجارتی ملاقاتیں بھی متوقع ہیں جن میں دونوں برادر ممالک کے مابین معاشی تعاون کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے عزم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اسٹریٹجک اور اقتصادی سطح پر ہونے والے ان رابطوں کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے زیر التواء ترجیحی تجارتی معاہدے (PTA) کو جلد از جلد حتمی شکل دینا ہے۔ ایرانی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات ایک نئے اور مثبت دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں باہمی تجارت کے فروغ کے لیے رکاوٹوں کو دور کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ پاکستانی بندرگاہیں ایرانی درآمدات اور برآمدات کے لیے نہ صرف ایک آسان زمینی و سمندری راستہ فراہم کر سکتی ہیں بلکہ اس سے دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں معاشی سرگرمیاں بھی تیز ہونے کی توقع ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ایران پاکستانی بندرگاہوں کو اپنے تجارتی نیٹ ورک میں کامیابی کے ساتھ ضم کر لیتا ہے تو اس سے تہران کو واشنگٹن کی طرف سے لگائی گئی معاشی پابندیوں کے اثرات کو کم کرنے میں نمایاں مدد ملے گی۔ دوسری جانب پاکستان کے لیے بھی یہ صورتحال خطے میں اپنی تجارتی اہمیت کو بڑھانے اور توانائی کے شعبے سمیت مختلف مدات میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے کا ایک سنہری موقع ہے۔ دونوں حکومتیں اس بات پر متفق دکھائی دیتی ہیں کہ علاقائی استحکام اور خوشحالی کے لیے باہمی تجارت کا فروغ ناگزیر ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب سفارتی و تجارتی ذرائع کو بروئے کار لایا جائے گا۔