World
امریکہ کا قشم جزیرۂ پر حملہ، جاں بحق خاندان کی تدفین
امریکہ کے ایران کے قشم جزیرے پر کیے گئے فضائی حملے میں ایک جوڑے اور ان کے کمسن بچے کی ہلاکت کے بعد ان کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں۔ اس المناک واقعے پر مقامی سطح پر گہرے صدمے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ایران کے قشم جزیرے پر کیے جانے والے ایک امریکی فضائی حملے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے میاں بیوی اور ان کے کمسن بچے کی نمازِ جنازہ اور تدفین انتہائی سوگوار ماحول میں ادا کر دی گئی۔ اس المناک واقعے نے پورے علاقے میں غم کی لہر دوڑا دی ہے اور مقامی شہریوں میں شدید دکھ اور صدمے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حملے کے وقت یہ خاندان اپنے گھر موجود تھا جب اچانک بمباری نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
حالیہ کشیدگی کے تناظر میں یہ واقعہ خطے میں جاری کشیدہ صورتحال اور عام شہریوں کو درپیش خطرات کی ایک اور ہولناک مثال ہے۔ انسانی حقوق کے حلقوں اور مقامی حکام نے اس قسم کے حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں معصوم جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ متاثرہ خاندان کے لواحقین اور قریبی عزیز و اقارب کی جانب سے اس بزدلانہ کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور عالمی برادری سے انصاف کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
تدفین کے موقع پر کثیر تعداد میں مقامی لوگ موجود تھے جنہوں نے سوگوار خاندان کے ساتھ بھرپور اظہارِ یکجہتی کیا۔ فضائی حملوں کی وجہ سے قشم جزیرے اور گردونواح کے علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے جس سے عام زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔ مقامی انتظامیہ متاثرہ علاقوں میں حالات کو قابو میں رکھنے اور متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، تاہم خطے میں جنگی جنون کی وجہ سے خوف کا ماحول بدستور برقرار ہے۔