LIVE
Loading Breaking News...

بھارت کے سیلاب زدہ آسام میں ہلاکتیں 87 تک پہنچ گئیں

News Image
بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں مون سون کی شدید بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر ستاسی ہو گئی ہے۔ متاثرہ اضلاع میں ہزاروں افراد بے گھر ہو کر عارضی خیمہ بستیوں اور اونچے مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں مون سون کی طوفانی بارشوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے ہولناک سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ مقامی حکام اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ریاست بھر میں سیلاب اور اس سے جڑے حادثات کے نتیجے میں مرنے والوں کی مجموعی تعداد ستاسی تک پہنچ گئی ہے۔ اس قدرتی آفت نے خطے کے نظامِ زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے اور لاکھوں لوگ براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔ ریاست کے سیلاب زدہ اضلاع میں صورتحال انتہائی ابتر بتائی جا رہی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں بے گھر ہونے والے شہری اب سڑکوں، بندوں اور عارضی شیلٹرز یا خیمہ بستیوں میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان عارضی پناہ گاہوں میں پینے کے صاف پانی، خوراک اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے متاثرہ خاندانوں بالخصوص بچوں اور بزرگوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں لیکن پانی کی سطح بلند ہونے کی وجہ سے بہت سے علاقوں تک رسائی تاحال مشکل بنی ہوئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آسام اور اس کے ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بلند ہے۔ برہمپوترا سمیت کئی اہم ندیاں طغیانی کا شکار ہیں جن کا پانی قریبی بستیوں اور زرعی زمینوں میں داخل ہو چکا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے بلکہ کھڑی فصلیں بھی تباہ ہو چکی ہیں، جس سے کسانوں کو بھی مالی طور پر شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ حکومتی اداروں اور امدادی تنظیموں کی طرف سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں جہاں متاثرین کو راشن اور طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم، تباہی کے وسیع پیمانے کو دیکھتے ہوئے امدادی کاموں کی رفتار ناکافی محسوس ہوتی ہے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ جب تک بارشوں کا سلسلہ مکمل طور پر تھم نہیں جاتا اور پانی کی نکاسی شروع نہیں ہوتی، معمولاتِ زندگی کی بحالی انتہائی دشوار رہے گی۔