World
امریکی عدالت کا ٹرمپ کی ماحولیاتی گرانٹس پر بڑا فیصلہ
امریکی وفاقی اپیل عدالت نے قرار دیا ہے کہ ای پی اے نے بائڈن دور کے کلین انرجی فنڈز کو منسوخ کرنے میں غالباً غیر قانونی اقدام کیا۔ اس عدالتی فیصلے کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکہ کی ایک وفاقی اپیل عدالت نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اس اقدام کو ایک بڑا دھچکا دیا ہے جس کے تحت بائڈن دور کی کلین انرجی اور ماحولیاتی گرانٹس کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ عدالت کا کہنا ہے کہ انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی یعنی ای پی اے نے بائڈن دور کے ان صاف توانائی کے فنڈز کو منسوخ کرنے میں غالباً قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماحولیاتی تحفظ اور صاف توانائی کے منصوبے امریکی سیاست میں ایک بڑا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس عدالتی فیصلے سے ان فنڈز کے حصول کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور ہونے کا امکان ہے۔ بائڈن انتظامیہ کے دوران منظور کی جانے والی ان گرانٹس کا مقصد ملک بھر میں صاف توانائی کے استعمال کو فروغ دینا اور کاربن کے اخراج کو کم کرنا تھا۔ تاہم دوسری طرف ٹرمپ انتظامیہ اور اس کے حامی ان روایتی پروگراموں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں سرکاری وسائل کا ضیاع قرار دیتے آئے ہیں۔ اس حالیہ عدالتی فیصلے نے ایک بار پھر وفاقی اداروں کے اختیارات اور ماحولیاتی پالیسیوں کے حوالے سے جاری قانونی جنگ کو گرما دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید قانونی کارروائی متوقع ہے جس سے یہ واضح ہوگا کہ ان کروڑوں ڈالر کی گرانٹس کا حتمی مستقبل کیا ہوگا۔