LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں 112 شہداء کی اجتماعی تدفین، تین سالہ انتظار کا اختتام

News Image
غزہ میں ابو شریعہ اور الحصاینہ خاندانوں کے 112 افراد کی اجتماعی تدفین کی گئی ہے جو 2023 کے ایک اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔ لواحقین نے اپنے پیاروں کی تدفین کے لیے تین طویل سال تک انتظار کیا۔
غزہ میں اس وقت ایک انتہائی دردناک اور جذباتی منظر دیکھنے میں آیا جب ہزاروں افراد نے ابو شریعہ اور الحصاینہ خاندانوں کے 112 افراد کے جنازے میں شرکت کی۔ یہ تمام افراد 2023 میں ہونے والے ایک شدید اسرائیلی حملے کے دوران جاں بحق ہو گئے تھے، تاہم حالات اور بمباری کی وجہ سے ان کی باقاعدہ تدفین ممکن نہیں ہو سکی تھی۔ لواحقین کو اپنے پیاروں کو آخری بار دیکھنے اور انہیں سپرد خاک کرنے کے لیے پورے تین سال کا طویل انتظار کرنا پڑا۔اس اجتماعی تدفین کے موقع پر شہداء کے لواحقین کی آنکھیں اشک بار تھیں اور ہر طرف ایک کہرام مچا ہوا تھا۔ ایک متاثرہ شخص نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ حملے کے بعد بچ جانے والے اپنے عزیز و اقارب کے باقی ماندہ حصوں کو گلے لگانا چاہتے تھے۔ طویل عرصے تک لاپتہ یا ناقابلِ شناخت رہنے والے ان افراد کے اعشاش و اجسام کو بالآخر اجتماعی قبروں میں اتارا گیا، جس نے پورے غزہ کے مکینوں کو غم و اندوہ کی ایک نئی لہر میں ڈبو دیا۔اسرائیلی جارحیت نے غزہ کے لاکھوں باسیوں کو نہ صرف ان کے گھروں سے بے گھر کیا بلکہ انہیں اپنے پیاروں کے جنازوں اور تدفین کے بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا۔ تین سال کا یہ کٹھ پتلی انتظار غزہ کے عوام کی روزمرہ کی مصیبتوں اور صبر کی ایک اور المناک مثال ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں اس صورتحال پر مسلسل تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں، لیکن زمینی حقائق کے مطابق متاثرہ خاندانوں کے زخم وقت گزرنے کے ساتھ مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ اجتماعی تدفین نہ صرف غزہ کے مظلوم عوام کی ایک بڑی المیہ داستان ہے بلکہ اس خطے میں جاری انسانی بحران کی سنگین عکاسی بھی کرتی ہے جہاں مرنے والوں کو بھی عزت کے ساتھ الوداع کہنا مشکل بنا دیا گیا ہے۔