Technology
یورپی یونین کا اے آئی ایکٹ اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے سخت ضوابط
یورپی یونین نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس ایکٹ کے تحت نئے قواعد کا نفاذ شروع کر دیا ہے جس کا مقصد ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں شفافیت لانا ہے۔ اس قانون کے تحت اب کمپنیوں کو اپنے اے آئی سسٹمز اور چیٹ بوٹس کے بارے میں صارفین کو مکمل آگاہی فراہم کرنا لازمی ہوگا۔
یورپی یونین نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے شعبے میں دنیا کا پہلا جامع قانونی ڈھانچہ 'اے آئی ایکٹ' نافذ کر دیا ہے۔ اس قانون سازی کا بنیادی مقصد ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثرات کو منظم کرنا اور صارفین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ نئے قوانین کے نفاذ کے ساتھ ہی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے مصنوعی ذہانت پر مبنی سسٹمز، خاص طور پر چیٹ بوٹس اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے بارے میں مکمل شفافیت کا مظاہرہ کریں۔ اب کمپنیوں کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ صارف کسی انسان سے نہیں بلکہ ایک مشین یا بوٹ سے بات کر رہا ہے۔
اس قانون کے تحت ایسے سسٹمز پر پابندیاں سخت کر دی گئی ہیں جو صارفین کے رویے کو غیر اخلاقی طریقے سے کنٹرول کرنے یا ان کی رازداری کو خطرے میں ڈالنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ خاص طور پر ڈیپ فیک مواد کی تیاری اور اس کی تشہیر کے حوالے سے سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں، تاکہ غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ یورپی یونین کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دے گا بلکہ یورپی شہریوں کو اے آئی کے نقصانات سے بھی محفوظ رکھے گا۔ کمپنیاں اب اس بات کی پابند ہیں کہ وہ اپنے الگورتھمز کی کارکردگی اور ڈیٹا کے استعمال کے بارے میں تفصیلی رپورٹس حکام کو فراہم کریں۔
ٹیکنالوجی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ یورپی یونین کا یہ اقدام عالمی سطح پر ایک مثال بنے گا، کیونکہ دنیا بھر کے دیگر ممالک بھی اب اپنے ہاں اے آئی کے ضوابط پر غور کر رہے ہیں۔ اے آئی ایکٹ کا اطلاق صرف یورپی کمپنیوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ جو بھی غیر ملکی کمپنی یورپی مارکیٹ میں خدمات فراہم کرنا چاہے گی، اسے ان سخت قوانین کی پاسداری کرنا ہوگی۔ یہ ضوابط خاص طور پر اعلیٰ خطرے والے اے آئی ماڈلز کے لیے بنائے گئے ہیں تاکہ انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کو نقصان نہ پہنچے۔ آنے والے دنوں میں ٹیکنالوجی انڈسٹری پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ اب کمپنیوں کو 'انوویشن' اور 'شفافیت' کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا۔