LIVE
Loading Breaking News...

براؤن یونیورسٹی کی صدر کرسٹینا پیکسن کا استعفیٰ: مکمل تفصیلات

News Image
براؤن یونیورسٹی کی صدر کرسٹینا پیکسن نے تعلیمی سال کے اختتام پر اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے دورِ صدارت کے دوران سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ فنڈنگ کے معاملات پر ہونے والے تنازعات سمیت کئی چیلنجز کا سامنا کیا۔
امریکہ کی معروف براؤن یونیورسٹی کی صدر کرسٹینا پیکسن نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ موجودہ تعلیمی سال کے اختتام پر اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گی۔ پیکسن، جو گزشتہ کئی برسوں سے یونیورسٹی کی سربراہی کر رہی تھیں، نے اپنے استعفے کے فیصلے کو ایک طویل غور و فکر کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ ان کا دور صدارت علمی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ امریکی تعلیمی اداروں کو درپیش پیچیدہ سیاسی اور سماجی چیلنجز سے عبارت رہا ہے، جس میں حکومتی پالیسیوں اور فنڈنگ کے معاملات پر ہونے والی بحثیں سرفہرست ہیں۔ واضح رہے کہ کرسٹینا پیکسن کے دور میں انہیں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ فنڈنگ کے حوالے سے شدید کشمکش کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ہائر ایجوکیشن اور یونیورسٹیوں کے لیے فنڈز کی فراہمی کے طریقہ کار پر اٹھائے گئے سوالات نے پیکسن اور وائٹ ہاؤس کے درمیان ایک واضح خلیج پیدا کر دی تھی۔ پیکسن نے اپنے بیانات میں بارہا اس بات پر زور دیا تھا کہ امریکی یونیورسٹیوں کی خود مختاری اور مالی استحکام ملک کے مستقبل کے لیے انتہائی ناگزیر ہے، جس کی وجہ سے انہیں سیاسی حلقوں میں کافی تنقید اور حمایت دونوں کا سامنا رہا۔ اپنے الوداعی پیغام میں پیکسن نے یونیورسٹی کی فیکلٹی، طلباء اور انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ادارے کی ترقی کے سفر میں اپنا کردار ادا کرنے پر فخر محسوس کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ براؤن یونیورسٹی اب ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ ان کی جگہ کوئی نیا رہنما آئے جو یونیورسٹی کو مزید بلندیوں تک لے جا سکے۔ یونیورسٹی کے ٹرسٹی بورڈ کی جانب سے بھی پیکسن کی خدمات کا اعتراف کیا گیا ہے اور جلد ہی نئے صدر کے انتخاب کے لیے تلاش کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق، پیکسن کا استعفیٰ امریکی تعلیمی اداروں میں بدلتی ہوئی سیاسی فضا کی عکاسی کرتا ہے۔ بڑھتے ہوئے اخراجات، طلباء کے احتجاج اور تعلیمی اداروں میں سیاسی مداخلت جیسے مسائل نے یونیورسٹی صدور کے لیے اپنے فرائض کی انجام دہی مشکل بنا دی ہے۔ کرسٹینا پیکسن کا یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کے سربراہان اب زیادہ سخت ماحول میں کام کرنے پر مجبور ہیں، جہاں انہیں تعلیمی اہداف کے ساتھ ساتھ سیاسی اور مالیاتی دباؤ کو بھی متوازن رکھنا پڑتا ہے۔