Business
ایپل کے حصص میں نمایاں کمی، چار دن میں 10 فیصد سے زیادہ نقصان
موبائل فون اور کمپیوٹر بنانے والی مشہور عالمی کمپنی ایپل کے حصص میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے جس کے بعد چار روزہ مجموعی خسارہ 10 فیصد سے بھی زیادہ ہو گیا ہے۔ منگل کے روز ٹریڈنگ کے دوران بھی کمپنی کے شیئرز میں مندی کا رجحان دیکھا گیا۔
عالمی شہرت یافتہ ٹیکنالوجی کمپنی ایپل (NASDAQ:AAPL) کے حصص کی قیمتوں میں گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے، اور حالیہ کاروباری سیشنز میں کمپنی کو بڑا مالی دھچکا لگا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، پیر کے روز باقاعدہ ٹریڈنگ کے دوران ایپل کے حصص میں تقریباً 1.5 فیصد مزید کمی دیکھی گئی، جس کے بعد پچھلے چار سیشنز میں ہونے والا مجموعی نقصان 10 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔ یہ صورتحال سرمایہ کاروں اور مارکیٹ تجزیہ کاروں کے لیے سخت تشویش کا باعث بن رہی ہے۔
ایپل جو کہ آئی فونز، میک کمپیوٹرز، آئی پیڈز اور ڈیجیٹل سروسز تیار کرنے والی دنیا کی صف اول کی کنزیومر ٹیکنالوجی کمپنی ہے، عالمی مارکیٹ میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ تاہم، حالیہ دنوں میں وال اسٹریٹ پر مجموعی دباؤ اور دیگر معاشی عوامل کے باعث ٹیکنالوجی سیکٹر بالخصوص ایپل کے حصص پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کی قوتِ خرید میں تبدیلی اور عالمی سپلائی چین کے چیلنجز بھی ان رجحانات کی وجوہات میں شامل ہو سکتے ہیں۔
سرمایہ کار اب اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ آیا یہ مندی عارضی ہے یا اس کا سلسلہ طویل ہو سکتا ہے۔ کمپنی کی جانب سے آئندہ مالیاتی رپورٹس اور حکمت عملی پر بھی مارکیٹ کی گہری نظر ہے۔ ایپل کے حصص میں اس مسلسل کمی کے نتیجے میں کمپنی کی مجموعی مارکیٹ کیپٹلائزیشن پر بھی اثر پڑا ہے، جس سے وال اسٹریٹ کے دیگر اہم انڈیکسز میں بھی ہلچل مچ گئی ہے۔