Entertainment
ڈونلڈ فیگن کا مشہور گیت آئی جی وائی: موسیقی اور تاریخ کا حسین امتزاج
1982 میں ریلیز ہونے والا ڈونلڈ فیگن کا گیت آئی جی وائی دراصل انٹرنیشنل جیوفزیکل ایئر کے سائنسی منصوبے سے متاثر ہو کر بنایا گیا تھا۔ یہ گانا اپنی منفرد موسیقی اور ماضی کی پرامیدی کو مستقبل کے آئینے میں دیکھنے کے انداز کی وجہ سے آج بھی موسیقی کی دنیا میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔
سن 1982 کے موسم خزاں میں موسیقی کی دنیا میں ایک ایسا منفرد گیت منظر عام پر آیا جس نے سامعین کو حیران کر دیا تھا۔ ڈونلڈ فیگن کا گیت 'آئی جی وائی' (I.G.Y) محض ایک پاپ سانگ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک گہری سوچ اور سائنسی تاریخ کے حسین امتزاج کا نام تھا۔ اس گیت کا عنوان 'انٹرنیشنل جیوفزیکل ایئر' (International Geophysical Year) سے لیا گیا تھا، جو 1957 اور 1958 کے دوران شروع ہونے والا ایک بین الاقوامی سائنسی تعاون کا منصوبہ تھا۔ اس منصوبے کا مقصد زمین اور اس کے ماحولیاتی نظام کے بارے میں معلومات حاصل کرنا تھا، جس نے اس دور کے لوگوں میں ایک نئی امید پیدا کر دی تھی۔
ڈونلڈ فیگن نے اپنے اس گیت کے ذریعے 1950 کی دہائی میں پائی جانے والی اسی پرامیدی کو مستقبل کے تناظر میں پیش کیا۔ گیت کی ساخت میں ایک عجیب سا طنزیہ انداز بھی نمایاں تھا جو 1980 کی دہائی کی حقیقت پسندانہ سوچ کی عکاسی کرتا تھا۔ موسیقی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس گیت کی کامیابی کا راز اس کی پیچیدہ دھن اور وہ تھیمز تھے جو سائنسی ترقی اور انسانیت کے مستقبل کے گرد گھومتے تھے۔ فیگن نے جس مہارت سے سائنسی اصطلاحات کو پاپ موسیقی کا حصہ بنایا، اس نے اسے اپنے دور کے دیگر گانوں سے بالکل الگ کھڑا کر دیا۔
اس گیت کی موسیقی کا معیار اس وقت کے دیگر مقبول گانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر تھا، جس کی وجہ اس کی ریکارڈنگ میں کی گئی محنت اور پروڈکشن کی باریکیاں تھیں۔ آج چار دہائیاں گزر جانے کے باوجود، 'آئی جی وائی' موسیقی کے شائقین کے لیے ایک کلاسک کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ گیت نہ صرف ڈونلڈ فیگن کی تخلیقی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے، بلکہ یہ اس دور کی عکاسی بھی ہے جب دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک روشن مستقبل کے خواب دیکھ رہی تھی۔ اس گیت کے بول آج بھی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ سائنسی ترقی اور انسانی توقعات کے درمیان کتنا گہرا تعلق ہے۔