Business
آبِ ہرمز معاہدہ: اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، تیل کی قیمتوں میں کمی
آبِ ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کے ساتھ کسی معاہدے کے امکانات روشن ہونے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ اس پیشرفت سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث اہم اسٹاک مارکیٹس میں تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے۔
عالمی منڈی میں آبِ ہرمز کے راستے کو دوبارہ کھولنے کے لیے ممکنہ سفارتی معاہدے کے اشارے ملنے کے بعد اسٹاک مارکیٹس میں زبردست تیزی اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق اس پیشرفت سے مشرق وسطیٰ کے کشیدہ حالات میں بہتری کی امید پیدا ہو گئی ہے جس نے سرمایہ کاروں کو نئی راہیں دکھائی ہیں۔ امریکی حکام کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ فریقین کے درمیان جلد ہی کسی عبوری یا مختصر مدت کے معاہدے پر اتفاق ہو سکتا ہے جس سے بین الاقوامی تجارت پر دباؤ کم ہوگا۔
وال اسٹریٹ جرنل اور دیگر معتبر بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی اہلکار بیسنٹ نے اشارہ دیا ہے کہ آبِ ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کی بحالی کے لیے منگل یا بدھ تک کوئی اہم معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ دوسری جانب، سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اس اہم سمندری گزرگاہ کے حوالے سے جلد مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ قطر اور دیگر علاقائی ممالک بھی اس بحران کے پرامن حل اور فریقین کے درمیان ثالثی کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، جن کی بنیاد پر مارکیٹ میں مثبت علامات دیکھی جا رہی ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں ہونے والی اس اچانک گراوٹ کو عالمی معیشت کے لیے ایک خوش آئند قدم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ آبِ ہرمز دنیا بھر میں توانائی کی فراہمی کا ایک انتہائی حساس اور اہم ترین راستہ ہے۔ اس گزرگاہ کے بند ہونے یا اس میں خلل پڑنے کے خدشات کی وجہ سے حالیہ دنوں میں تجارتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی تھیں اور مہنگائی کا خدشہ بڑھ گیا تھا۔ معاہدے کی امیدیں روشن ہونے سے کاروباری اداروں اور صارفین دونوں کو بڑی راحت ملی ہے، جبکہ حصص بازار میں حصص کی خریداری میں تیزی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔