LIVE
Loading Breaking News...

ایران کا امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے انکار، تازہ ترین صورتحال

News Image
ایرانی حکام نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فی الحال امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہو رہے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ ان کے رابطے صرف ثالثی کردار ادا کرنے والے ملک اومان کے ساتھ جاری ہیں۔
ایران نے ان تمام اطلاعات اور دعووں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی قسم کے براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔ ایرانی حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں اور تہران فی الحال امریکہ کے ساتھ بات چیت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ یہ تردید ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے تنازع پر تشویش پائی جاتی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنی پریس بریفنگ میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ایران کی خارجہ پالیسی میں کسی بھی جارحانہ دباؤ کے تحت مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ دوسری جانب، ایرانی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ اومان کے ساتھ رابطے میں ضرور ہیں، جو ماضی میں بھی تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ تاہم، ایران کا اصرار ہے کہ اومان کے ساتھ جاری یہ رابطے عام سفارتی نوعیت کے ہیں اور انہیں امریکہ کے ساتھ کسی ممکنہ مذاکراتی عمل کا حصہ قرار دینا درست نہیں ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ تہران کی جانب سے یہ دو ٹوک موقف دراصل داخلی اور خارجی سطح پر اپنے بیانیے کو مضبوط کرنے کی ایک کوشش ہے، تاکہ یہ پیغام دیا جا سکے کہ وہ امریکی پابندیوں اور دھمکیوں کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کا بحران بہت جلد حل ہو سکتا ہے اور حالات معمول پر آ سکتے ہیں، یہاں تک کہ انہوں نے ایک بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ راستہ کل تک کھل سکتا ہے۔ ٹرمپ کا یہ دعویٰ ایران کی تردید کے بعد مزید مشکوک ہو گیا ہے جس سے خطے کی سیاسی صورتحال میں غیر یقینی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ تہران کے مطابق جب تک امریکہ اپنی سخت پالیسیوں اور معاشی پابندیوں میں نرمی نہیں لاتا اور ایران کی خود مختاری کا احترام نہیں کرتا، تب تک کسی بھی قسم کی بات چیت کا امکان معدوم ہے۔ مجموعی طور پر، ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ تعطل نہ صرف سفارتی بلکہ عسکری محاذ پر بھی ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ عالمی طاقتیں اس صورتحال کو گہری تشویش سے دیکھ رہی ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز سے ہونے والی تیل کی ترسیل میں خلل عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ تہران اب بھی اپنے موقف پر قائم ہے کہ اسے کسی بھی ایسے مذاکرات میں کوئی دلچسپی نہیں جو امریکی شرائط کے تابع ہوں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ثالثی کے کردار میں اومان کی کوششیں رنگ لاتی ہیں یا دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھتی ہے۔